صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 260 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 260

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۲۶۰ ۹۲ - كتاب الفتن بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: میرے بعد عنقریب تم ایسی باتیں دیکھو گے جنہیں تم بر امناؤ گے وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ النَّبِيُّ اور حضرت عبد اللہ بن زید نے کہا نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْبِرُوا حَتَّى علیہ وسلم نے فرمایا تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ۔سے حوض پر ملو۔٧٠٥٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۷۰۵۲: ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ یحی بن بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا سعید نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ قَالَ زید بن وہب نے ہمیں بتایا کہ میں نے حضرت قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد الله بن مسعود) سے سنا۔انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: میرے بعد عنقریب تم ترجیحی سلوک دیکھو گے اور وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا ایسے امور دیکھو گے جن کو تم بر امناؤ گے۔صحابہ رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ نے کہا: یارسول اللہ ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اُن کا حق اُن کو ادا کر دو وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ۔طرفه : ٣٦٠٣ - اور اللہ سے اپنا حق مانگو۔٧٠٥٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ عَبْدُ الْوَارِثِ ۷۰۵۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عَنِ الْجَعْدِ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَن عبد الوارث سے، عبد الوارث نے جعد سے، جعد ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے ابو رجاء سے ، ابور جاء نے حضرت ابن عباس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ سے حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جس نے اپنے حاکم کی کسی بات کو ناپسند کیا تو چاہیئے کہ وہ صبر کرے کیونکہ جو بادشاہ کی اطاعت سے ایک بالشت بھی باہر ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً۔أطرافه : ٧٠٥٤، ٧١٤٣ -