صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 2
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔۔ نہیں بلکہ صرف ایسے مرتد کی سزا قتل ہے جو محارب اور باغی ہے۔ دراصل وہ سزا ارتداد کی نہیں بلکہ بغاوت اور محاربت کی ہے۔ امام بخاری اس کتاب میں اس موضوع پر اکیس مرفوع احادیث اور صحابہ و تابعین کے سات اقوال لائے ہیں اور ان پر نوابواب قائم کئے ہیں۔ بَاب ۱ : إِثْمُ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ وَعُقُوبَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اُس شخص کا گناہ جو اللہ کا شریک ٹھہرائے اور دنیا و آخرت میں اس کی سزا قَالَ اللهُ تَعَالَى : إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمُ الله تعالیٰ نے فرمایا: شرک بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤) لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ ( نیز فرمایا: ) اگر تو نے شرک کیا تو یقیناً تیرے عمل عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ ۔۔ رائیگاں جائیں گے اور تو ضرور گھاٹا پانے والوں میں (الزمر: ٦٦) سے ہو جائے گا۔ ٦٩١٨: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۱۹۱۸ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ( بن عبد الحمید ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہے ، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ علقمہ سے ، علقمہ نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود) لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الأنعام: ۸۳) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی : وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ اُنہوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم سے بھی آلودہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا أَيُّنَا لَمْ نہیں کیا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر یہ بات يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ بہت گراں گزری اور وہ کہنے لگے: ہم میں سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ بِذَلِكَ کون ہے جس نے اپنے ایمان نے اپنے ایمان کو کسی ظلم سے آلودہ أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ إِنَّ نہیں کیا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤)۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے لقمان کا قول نہیں سنا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ أطرافه: ۳۲، ۳۳۶۰، ۳۴۲۸، ۳۴۲۹، ٤٦۲۹، ٤٧٧٦، ٦٩٣٧۔