صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 233
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۱ - كتاب التعبير الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ كَر مَهْيَعَہ میں جا ٹھہری ہے۔میں نے اس کی یہ الْجُحْفَةُ۔أطرافه: ۷۰۳۸، ٧٠٤۰ - تعبیر کی کہ مدینہ کی وبا مشیعہ کی طرف منتقل کی گئی اور یہ مُجحفہ ہی ہے۔شریح: المَرْأَةُ السَّوْدَاءُ: سیاہ عورت (خواب میں دیکھنا۔) حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ ملب نے کہا: خواب خود تعبیر شدہ ہے۔لفظ ”سوداء“ یعنی سوء بمعنی برائی، داء بمعنی بیماری ہے ، پس اس کا نام ہی ایسا ہے جس سے خود تعبیر ظاہر ہے جیسا کہ حدیث میں آپ نے واضح فرمایا۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ ۵۳۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وحی وراء الحجاب کی خدا تعالیٰ کی کلام میں ہزاروں مثالیں ہیں اس سے انکار کرنا منصف کا کام نہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دو جھوٹے نبیوں کو دو کڑوں کی شکل میں دیکھنا اسی قسم کی وحی تھی۔اور مدینہ کی وہاکا عورت پراگندہ شکل کے طور پر نظر آنا یہ بھی اسی قسم کی وحی تھی۔اسی طرح دجال بھی جو ایک دجل کرنے والا گروہ ہے ایک شخص مقرر کی طرح نظر آیا۔یہ بھی اسی قسم کی وحی ہے۔نبیوں کی وحیوں میں ہزاروں ایسے نمونے ہیں جن میں روحانی امور جسمانی رنگ میں نظر آئے یا ایک جماعت ایک شخص کی صورت میں نظر آئی۔تمام نوع انسان کے لئے جس میں انبیاء علیہم السلام بھی داخل ہیں خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ الہام اور وحی اور رویا اور کشف پر اکثر استعارات غالب ہوتے ہیں۔“ ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۷۷) بَابِ ٤٣ : الْمَرْأَةُ النَّائِرَةُ الرَّأْسِ پراگندہ سر عورت (خواب میں دیکھنا) ٧٠٤٠: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۷۰۴۰: ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي ابو بكر بن ابی اولیس نے مجھے بتایا۔سلیمان (بن أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ مُوسَى (بلال) نے مجھے بتایا۔سلیمان نے موسیٰ بن عقبہ 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہاں خدارہی ہے۔(فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔