صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 234
صحیح البخاری جلد ۱۶ سلام سلام ٩١ - كتاب التعبير بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ہے، اُنہوں نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ میں نے ایک کالی عورت دیکھی جو پراگندہ سر الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ فَأَوَّلْتُ ہے، مدینہ سے مَهْيَعَہ میں جاکھڑی ہوئی ہے۔ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ) میں نے یہ تعبیر کی کہ مدینہ کی وبا مهیعَہ کی طرف وَهِيَ الْجُحْفَةُ۔ أطرافه: ۷۰۳۸، ۷۰۳۹ یہ منتقل کی گئی اور وہ مجحفہ ہی ہے۔ باب ٤٤ : إِذَا هَزَّ سَيْفًا فِي الْمَنَامِ اگر خواب میں تلوار چلائے ٧٠٤١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۷۰۴۱: محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے برید بن اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِهِ أَبِي بُرْدَةَ عبد الله بن ابی بردہ سے، برید نے اپنے دادا الم عَنْ أَبِي مُوسَى أَرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ابو بردہ سے، اُن کے دادا نے حضرت ابو موسیٰ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ سے روایت کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے نبی أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا ہے اور اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے۔ تو اس سے وہی مراد تھی جو مؤمن جنگ اُحد کے دن شہید كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ۔ أطرافه: ٣٦٢٢ ، ۳۹۸۷، ۴۰۸۱، ۷۰۳۵۔ ہوئے۔ پھر میں نے اس کو دوبارہ ہلایا تو پھر ویسی ہی عمدہ ہو گئی جیسی پہلے تھی تو اس سے وہی فتح مراد ہے جو اللہ نے کرائی اور نیز مؤمنوں کا اکٹھا ہو جاتا۔