صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 224
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۲۴ ۹ - كتاب التعبير اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدَ نے فرمایا: عبد اللہ نیک آدمی ہے۔نافع کہتے تھے: اللهِ رَجُلٌ صَالِحٌ فَقَالَ نَافِعٌ فَلَمْ اس کے بعد حضرت ابن عمرؓ نماز بہت پڑھا کرتے يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ۔تھے۔أطرافه: ۱۱۲۲ ،۱۱۵۷ ،۳۷۳۹، ٣٧٤۱، ٧٠١٦، ٧٠٣١۔تشریح۔الْأَمْنُ وَذَهَابُ الرَّوْعِ فِي الْمَنَامِ : خواب میں امن اور گھبراہٹ کے دور ہونے کو دیکھنا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: محولہ بالا روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے خواب کا ذکر ہے۔جسے سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ ان میں کوئی کمزوری ہے، جس کی وجہ سے ان کو جہنم کی طرف لے جاکر اس کا نظارہ دکھایا گیا ہے۔اس لئے آپ نے تہجد پڑھنے کے لئے فرمایا، تا اس سے ان کی کمزوری دور ہو جائے اور یہی وہ فضیلت ہے نماز تہجد کی۔یعنی اس نماز سے تزکیہ نفس کامل طور پر ہوتا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور اس سے سچی محبت نہ ہو ، تب تک انسان اپنی آرام کی گھڑیاں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو تا۔یہ ایمان اور محبت اور دعائیں آخر اس کے تزکیہ کا باعث بن جاتی ہیں۔“ (صحیح البخاری، کتاب العهجد، باب فَضْلِ قِيَامِ اللَّيْلِ، جلد ۲، صفحہ ۵۱۳) بَاب ٣٦ : الْأَخْذُ عَلَى الْيَمِينِ فِي النَّوْمِ خواب میں دائیں طرف لئے جاتے دیکھنا ۷۰۳۰: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۷۰۳۰: عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ دی۔اُنہوں نے زہری سے، زہری نے سالم عُمَرَ قَالَ كُنْتُ غُلَامًا شَابًا عَزَبًا فِي سے، سالم نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ مَنْ میں جوان لڑکا تھا جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِي صَلَّى اللهُ تھی اور میں مسجد میں ہی رات گزارا کرتا تھا اور جو