صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 221 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 221

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۲۱ بَاب ٣٤ : إِذَا أَعْطَى فَضْلَهُ غَيْرَهُ فِي النَّوْمِ اگر خواب میں اپنا بچا ہوا کسی دوسرے کو دے ۹ - كتاب التعبير ۷۰۲۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۷۰۲۷: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عقیل سے عقیل نے شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابن شہاب سے روایت کی کہ حمزہ بن عبد اللہ بن بْن عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ عمر نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحٍ لَبَنِ فَشَرِبْتُ مِنْهُ فرماتے تھے: میں سویا ہوا تھا اتنے میں میرے حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرّيَّ يَجْرِي ثُمَّ پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا۔میں نے اس سے أَعْطَيْتُ فَضْلَهُ عُمَرَ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ اتنا پیا کہ اب بھی اس کی طراوت کو (جسم میں) سرایت کرتے ہوئے محسوس کرتا ہوں۔پھر میں نے اپنا بچا ہو ا عمر کو دے دیا۔لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ الْعِلْمُ۔أطرافه: ۸۲، ٣٦٨١، ٧٠٠٦، ۷۰۰۷، ۷۰۳۲- آپ نے فرمایا: علم۔ح۔إِذَا أَعْطَى فَضْلَهُ غَيْرَهُ في النوم : اگر خواب میں اپنا چاہو کسی دوسرے کو دے۔" حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیا اور اس کی تعبیر سے نیز ان واقعات سے جن سے کہ اس رویا کی تصدیق ہوئی یہ استدلال کرنا مقصود ہے کہ دنیاوی فتوحات اور عظمت جو مسلمانوں کو حضرت عمرؓ کے ذریعہ سے نصیب ہوئی وہ علم نبوی کا ایک بچا ہوا حصہ تھا جو حضرت عمر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تھا۔قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بوجہ آپ کی اس جامع حیثیت کے فتح الباری مطبوعہ انصاریہ و بولاق میں أَنَّ عَبد اللہ بن محمد کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۲۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔