صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 220
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۲۰ ۹۱ - كتاب التعبير نا آشنا ہیں۔اور یہ امر کہ مسیح موعود دنبال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا یعنی دجال بھی خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اور مسیح موعود بھی۔اس کے معنی خود ظاہر ہیں کہ اس طواف سے ظاہری طواف مراد نہیں ورنہ یہ ماننا پڑیگا کہ دجال خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے گا یا یہ کہ مسلمان ہو جائے گا۔یہ دونوں باتیں خلاف نصوص حدیثیہ ہیں۔پس بہر حال یہ حدیث قابل تاویل ہے اور اس کی وہ تاویل جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہو گا جس کا نام دجال ہے وہ اسلام کا سخت دشمن ہو گا اور وہ اسلام کو نابود کرنے کے لئے جس کا مرکز خانہ کعبہ ہے چور کی طرح اُس کے گرد طواف کرے گا تا اسلام کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دے اور اس کے مقابل پر مسیح موعود بھی مرکز اسلام کا طواف کرے گا جس کی تمثلی صورت خانہ کعبہ ہے اور اس طواف سے مسیح موعود کی غرض یہ ہوگی کہ اس چور کو پکڑے جس کا نام دجال ہے اور اس کی دست درازیوں سے مرکز اسلام کو محفوظ رکھے۔یہ بات ظاہر ہے کہ رات کے وقت چور بھی گھروں کا طواف کرتا ہے اور چوکیدار بھی۔چور کی غرض طواف سے یہ ہوتی ہے کہ نقب لگاوے اور گھر والوں کو تباہ کرے اور چوکیدار کی غرض طواف سے یہ ہوتی ہے کہ چور کو پکڑے اور اُس کو سخت عقوبت کے زندان میں داخل کراوے تا اس کی بدی سے لوگ امن میں آجاویں۔پس اس حدیث میں اسی مقابلہ کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں وہ چور جس کو دجال کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ناخنوں تک زور لگائے گا کہ اسلام کی عمارت کو منہدم کر دے۔اور مسیح موعود بھی اسلام کی ہمدردی میں اپنے نعرے آسمان تک پہنچائے گا اور تمام فرشتے اس کے ساتھ ہو جائیں گے تا اس آخری جنگ میں اُس کی فتح ہو۔وہ نہ تھکے گا اور نہ درماندہ ہو گا اور نہ سُست ہو گا اور ناخنوں تک زور لگائے گا کہ تا اُس چور کو پکڑے اور جب اُس کی تفرعات انتہا تک پہنچ جائیں گی تب خدا اس کے دل کو دیکھے گا کہ کہا تک وہ اسلام کے لئے پگھل گیا تب وہ کام جو زمین نہیں کر سکتی آسمان کرے گا اور وہ فتح جو انسانی ہاتھوں سے نہیں ہو سکتی وہ فرشتوں کے ہاتھوں سے میسر آجائے گی۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۲۱ تا ۳۲۴)