صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 126
صحيح البخاری جلد ۱۶ ١٢٦ ٩٠ كتاب الحيل الْمُشْتَرِي أَلْفَ دِرْهَم فَلَا يَكُونُ کہ حیلہ کر کے شفعہ کو باطل کر دے اور بیچنے والا لِلشَّفِيعِ فِيهَا شُفْعَةٌ۔مشتری کو وہ گھر ہبہ کر دے اور اس کی حد بندی کر دے اور اُس کو اُس کے حوالے کر دے اور خریدار اس کے عوض میں بیچنے والے کو ایک ہزار درہم دے تو پھر شفعہ کے حقدار کو اس گھر کے متعلق أطراف: ٢٢٥۸ ، ٦٩٧٨ ، ٦٩٨٠، ٦٩٨١۔شفعہ کا حق نہیں رہے گا۔٦۹۷۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۹۷۸ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ سفيان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ابراہیم عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِي رَافِعِ بن میسرہ سے، ابراہیم نے عمرو بن شرید سے ، عمرو أَنَّ سَعْدًا سَاوَمَهُ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالُ نے حضرت ابو رافع سے روایت کی کہ حضرت سعد فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ نے اُن سے ایک گھر کا سودا چار سو مثقال پر کیا تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْجَارُ حضرت ابورافع نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ لالم کو فرماتے نہ سنا ہو تا کہ ہمسایہ اپنے پڑوسی کی أَحَقُّ بِصَقَبِهِ لَمَا أَعْطَيْتُكَ۔وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنِ اشْتَرَى نَصِيبَ دَارٍ فَأَرَادَ جائیداد کازیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو کبھی نہ دیتا اور بعض لوگوں نے کہا: اگر وہ گھر کا ایک حصہ خرید أَنْ يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ وَهَبَ لِابْنِهِ الصَّغِيرِ لے اور شفعہ کو باطل کرنا چاہے تو اپنے چھوٹے وَلَا يَكُونُ عَلَيْهِ يَمِينٌ۔أطرافه ٢٢٥٨، ٦٩٧٧، ٦٩٨٠، ٦٩٨١- بیٹے کو ہبہ کر دے تو اس بچہ کو قسم بھی نہ دی جائے۔شریح: في الْهِبَةِ وَالشُّفْعَةِ: ہبہ اور شفعہ کے متعلق۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: "کتے کی مثال سے واضح ہے کہ ہبہ سے رجوع نہایت مکروہ ہے۔جہاں تک فتوی کا تعلق ہے، وہ مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ دھوکہ فریب کی صورت میں ہبہ سے بذریعہ دار القضاء رجوع کیا جاسکتا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۶۶ ۲۶۷) ( صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب الهبة، شرح باب هِبَةُ الرَّجُلِ لِامْرَأَتِهِ وَالْمَرْأَةُ لِزَوْجِهَا ، جلد ۴ صفحه ۶۳۷)