صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 125
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۲۵ ٩٠ - كتاب الحيل بَاقِي الدَّارِ وَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ فِي ذَلِكَ ۔ شفعہ کا کوئی حق نہیں اور اس کے لئے جائز ہو گا کہ وہ اس کے متعلق حیلہ کرے۔ أطرافه: ۲۲۱۳ ، ۲۲۱۴، ٢٢۵۷، ٢٤٩٥، ٢٤٩٦۔ ٦٩٧٧: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۶۹۷۷: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابراہیم قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ قَالَ بن میسرہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے جَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عمرو بن شرید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت مسور ی کے عَلَى مَنْكِبِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى سَعْدٍ بن مخرمہ آئے اور اُنہوں نے میرے کندھے پر فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ لِلْمِسْوَرِ أَلَا تَأْمُرُ هَذَا اپناہاتھ رکھا اور میں اُن کے ساتھ حضرت سعد - أَنْ يَشْتَرِيَ مِنِّي بَيْتِيَ الَّذِي فِي داري دَارِي پاس چلا گیا تو حضرت ابو رافع نے حضرت مسور سے فَقَالَ لَا أَزِيدُهُ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةِ إِمَّا کہا: کیا تم سعد بن ابی وقاص کو مشوره اوقاص کو مشورہ نہیں دیتے کہ وہ مجھ سے میرا وہ گھر خرید لیں جو اُن کی حویلی میں مُقَطَّعَةٍ وَإِمَّا مُنَجَّمَةٍ۔ قَالَ أُعْطِيتُ خَمْسَ مِائَةٍ نَقْدًا فَمَنَعْتُهُ وَلَوْلَا أَنِّي ہے؟ تو حضرت سعد نے کہا: میں اُن کو چار سو سے زیادہ نہیں دوں گا، وہ بھی اقساط کے ساتھ۔ اُنہوں سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا مجھے تو پانچ سو نقد ملے تھے مگر میں نے وہ يَقُولُ الْجَارُ أَوْلَى بِصَقَبِهِ مَا بِعْتُكَہ گھر نہیں دیا اور اگر مں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو أَوْ قَالَ مَا أَعْطَيْتُكَهُ قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّ فرماتے نہ سنا ہو تا کہ ہمسایہ اپنے پڑوسی کی جائیداد مَعْمَرًا لَمْ يَقُلْ هَكَذَا قَالَ لَكِنَّهُ قَالَ کا زیادہ حقدار ہے تو میں تم کو یہ کبھی نہ بیچتا یا کہا؟ کبھی لِي هَكَذَا ۔ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِذَا أَرَادَ نہ دیتا ( علی بن مدینی کہتے تھے کہ ) میں نے سفیان أَنْ يَبِيعَ الشَّفْعَةَ فَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّی سے کہا کہ معمر نے یوں نہیں کہا۔ تو انہوں نے کہا: يُبْطِلَ الشَّفْعَةَ فَيَهَبَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي لیکن انہوں نے مجھے ایسا ہی بتایا اور بعض لوگوں نے الدَّارَ وَيَحُدُّهَا وَيَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيُعَوِّضُهُ کہا: اگر حق شفعہ بیچنا چاہے تو اس کے لئے جائز ہے ا۔ بعض نسخوں میں اس جگہ لفظ دارہ ہے۔ (صحیح بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، جلد ۲ صفحہ ۱۰۳۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہاں لفظ أحقُّی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۴۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔