صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 114 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 114

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۱۱۴ ٩٠ - كتاب الحيل ٦٩٦٩ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۶۹۶۹ : علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ یحی بن سعید نے عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ ہم سے بیان کیا۔ بچی نے قاسم (بن محمد) سے تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوِّجَهَا وَلِيُّهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ روایت کی کہ جعفر کی اولاد میں سے ایک عورت ڈری کہ اُس کا ولی اس کا نکاح نہ کر دے اور وہ فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ - نا پسند کرتی تھی تو اُس نے انصار میں سے بڑی عمر کے دو افراد عبد الرحمن اور مجمع کو جو دونوں جاریہ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعِ ابْنَيْ جَارِيَةَ - قَالَا فَلَا تَخْشَيْنَ فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ کے بیٹے تھے، کہلا بھیجا تو ان دونوں نے کہا: تم ڈرو خِدَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَرَدَّ نہیں کیونکہ حضرت خنساء بنت خدام کا خدام کا نکاح اس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ۔ قَالَ کے باپ نے کر دیا تھا اور وہ ناپسند کرتی تھیں تو نبی سُفْيَانُ وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو باطل قرار دیا۔ يَقُولُ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ خَنْسَاءَ۔۔ أطرافه: ٥١٣٨، ٥١٣٩، ٦٩٤٥۔ سفیان کہتے تھے : عبد الرحمن جو ہیں تو میں نے اُن سے سنا۔ وہ اپنے باپ سے یوں نقل کرتے تھے کہ حضرت خنساء ۔ ( آخر تک) ٦٩٧٠: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۶۹۷۰: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے بچی ( بن ابی کثیر ) سے ، يحي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ نے ابوسلمہ (بن عبد الرحمن) سے، ابوسلمہ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ کا نکاح نہ تُسْتَأْذَنَ قَالُوا كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ أَنْ کیا جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لیا جائے اور باکرہ (کنواری) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ تَسْكُتَ۔ اس سے اجازت نہ لی جائے۔ لوگوں نے کہا: اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ وہ أطرافه: ٥١٣٦، ٦٩٦٨ - خاموش رہے۔