صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 108 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 108

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۰۱ ٩٠ - كتاب الحيل يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ وَإِنْ خِفْتُم اُنہوں نے کہا : عروہ بن زبیر ) بیان کرتے تھے کہ الَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَثْنى فَانْكِحُوا مَا طَابَ اُنہوں نے حضرت عائشہ سے پوچھا: وَإِنْ خِفْتُم لكُم مِّنَ النِّسَاءِ ( النساء: ٤) قَالَتْ هِيَ الَّا تُقْسِطُوا فِي اليٹی یعنی اور اگر تمہیں (یہ) الْيَتِيمَةُ فِي حَجْرٍ وَلِيْهَا فَيَرْغَبُ فِي خوف ہو کہ تم یتیموں (کے بارہ) میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو (صورت) تمہیں پسند ہو (کرلو) (یعنی مَالِهَا وَجَمَالِهَا فَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا غیر یتیم ) عورتوں میں سے نکاح کر لو۔ سے کیا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ نِسَائِهَا فَنُهُوا عَنْ مراد ہے؟ اُنہوں نے کہا: یہ وہ یتیم لڑکی ہے جو نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي اپنے سر پرست کی پرورش میں ہو اور وہ اُس کے إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ مال اور خوبصورتی کی وجہ کی وجہ سے چاہتا ہو کہ اس قسم رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی عورتوں کا جو (حق مہر) عام طور پر ہوتا ہے اس بَعْدُ فَأَنْزَلَ اللهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ سے کم دے کر اس سے نکاح کرلے۔ اس لئے وہ (النساء: ۱۲۸) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔ یتیم لڑکیوں کے ایسے نکاح سے روک دیئے گئے تھے سوائے اس کے کہ وہ پورا پورا مہر دے کر اُن سے انصاف کریں۔ پھر اس آیت کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو اللہ نے یہ سورۃ نازل کی۔ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ یعنی اور لوگ تجھ سے (ایک سے زیادہ) عورتوں (سے نکاح) کے متعلق (احکام) دریافت کرتے ہیں۔ شعیب نے وہ ساری حدیث بیان کی۔ أطرافه: ٢٤٩٤ ، ٢٧٦٣ ، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤ ، ٤٦٠٠، ٥٠٦٤، ۵٠٩٢، ۵۰۹۸، ۵۱۲۸، 11102310- تشريح : مَا يُنْهَى عَنِ الْاحْتِيَالِ لِلْوَلِي فِي الْيَتِيمَةِ الْمَرْغُوبَة : اس یتیم لڑکی کے متعلق جو پسندیدہ ہو سر پرست کے لئے حیلہ کرنا۔ معاشرے کی اکائی ایک گھرانہ ہے جس کی بنیاد نکاح کے ذریعہ میاں بیوی کے جوڑے کی صورت میں قائم ہوتی ہے۔ صحت نیت کو اسلام نکاح کی وہ بنیادی اینٹ قرار دیتا ہے جس سے اس کی عمارت کھڑی ہو گی۔ وہ نکاح جس کے انعقاد میں بد نیتی، دھوکہ ، دعا اور جھوٹ ہو وہ جائز نہیں گو قانون