صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 766
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۶۶ ۸۷ - كتاب الديات اسی طرح یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قاتل کو گرفتار کرنے والی اور اس کو سزا دینے والی حکومت ہی ہے۔ کیونکہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ عبید اللہ بن عمرؓ کو گرفتار بھی حضرت عثمان نے کیا اور اس کو قتل کے لئے ہر مز ان کے بیٹے کے سپر د بھی انہوں نے ہی کیا۔ نہ ہرمز ان کے کسی وارث نے اس پر مقدمہ چلایا اور نہ اس نے گرفتار کیا۔ اس جگہ اس شبہ کا ازالہ کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کو سزا دینے کے لئے آیا مقتول کے وارثوں کے سپرد کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت عثمان نے کیا یا خود حکومت کو سزا دینی چاہیے۔ سو یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ معاملہ ایک جزوی معاملہ ہے اس لئے اس کو اسلام نے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق عمل کرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے قوم اپنے تمدن اور حالات کے مطابق جس طریق کو زیادہ مفید دیکھے اختیار کر سکتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں طریق ہی خاص خاص 66 حالات میں مفید ہوتے ہیں۔ “ ( تفسير كبير ، سورة البقرة، زير آيت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ جلد ۲، صفحہ ۳۵۹، ۳۶۱) بَاب ۳۲ : إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ اگر مسلمان کسی یہودی کو غصے میں تھپڑ لگائے رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اس کو حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ سے روایت کیا۔ ٦٩١٦ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۶۹۱۶: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو بن یچی سے، عمرو نے عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اپنے باپ سے ، اُن کے باپ نے حضرت ابو سعید عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ (خدری) سے ، حضرت ابو سعید نے نبی صلی الایم الْأَنْبِيَاءِ۔ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو۔ أطرافه: ٢٤١٢ ، ۳۳۹۸ ، ٤٦٣٨، ٦٩١٧، ٧٤٢٧۔