صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 765
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۶۵ ۸۷ - كتاب الديات دیا وہ کہتا ہے۔ایرانی لوگ مدینہ میں ایک دوسرے سے ملے جلے رہتے تھے (جیسا کہ قاعدہ ہے کہ دوسرے ملک میں جا کر وطنیت نمایاں ہو جاتی ہے) ایک دن فیروز (قاتل عمر خلیفہ ثانی) میرے باپ سے ملا اور اس کے پاس ایک خنجر تھا جو دونوں طرف سے تیز کیا ہوا تھا۔میرے باپ نے اس خنجر کو پکڑ لیا اور اس سے دریافت کیا کہ اس ملک میں تو اس خنجر سے کیا کام لیتا ہے (یعنی یہ ملک تو امن کا ملک ہے اس میں ایسے ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے) اُس نے کہا کہ میں اس سے اونٹ ہنگانے کا کام لیتا ہوں۔جب وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے اُس وقت کسی نے ان کو دیکھ لیا اور جب حضرت عمرؓ مارے گئے تو اس نے بیان کیا کہ میں نے خود ہرمزان کو یہ تنجر فیروز کو پکڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔اس پر عبید اللہ (حضرت عمرؓ کے چھوٹے بیٹے ) نے جا کر میرے باپ کو قتل کر دیا۔جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا اور عبید اللہ کو پکڑ کر میرے حوالے کر دیا اور کہا کہ اے میرے بیٹے ! یہ تیرے باپ کا قاتل ہے اور تو ہماری نسبت اس پر زیادہ حق رکھتا ہے پس جا اور اس کو قتل کر دے میں نے اس کو پکڑ لیا اور شہر سے باہر نکلا۔راستہ میں جو شخص مجھے ملتا میرے ساتھ ہو جاتا لیکن کوئی شخص مقابلہ نہ کرتا۔وہ مجھ سے صرف اتنی درخواست کرتے تھے کہ میں اسے چھوڑ دوں۔پس میں نے سب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا میرا حق ہے کہ میں اسے قتل کر دوں۔سب نے جواب دیا کہ ہاں تمہارا حق ہے کہ اسے قتل کر دو اور عبید اللہ کو بھلا بُرا کہنے لگے کہ اس نے ایسا بُرا کام کیا ہے پھر میں نے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کو حق ہے کہ اسے مجھ سے چھڑا لو اُنہوں نے کہا کہ ہر گز نہیں اور پھر عبید اللہ کو بُرا بھلا کہا۔کہ اس نے بلا ثبوت اس کے باپ کو قتل کر دیا اس پر میں نے خدا اور ان لوگوں کی خاطر اس کو چھوڑ دیا۔اور مسلمانوں نے فرط مسرت سے مجھے اپنے کندھوں پر اٹھالیا۔اور خد اتعالیٰ کی قسم میں اپنے گھر تک لوگوں کے سروں اور کندھوں پر پہنچا اور انہوں نے مجھے زمین پر قدم تک نہیں رکھنے دیا۔اس روایت سے ثابت ہے کہ صحابہ کا طریق عمل بھی یہی رہا ہے کہ وہ غیر مسلم کے مسلم قاتل کو سزائے قتل دیتے تھے۔اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کسی ہتھیار سے کوئی شخص مارا جائے وہ مارا جائیگا۔