صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 764
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۶۴ ۸۷ - كتاب الديات إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهُمَا يُعْطَى ذات کی قسم ہے جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ کو بنایا، ہمارے پاس اور کچھ نہیں وہی ہے جو قرآن قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ الْعَقْلُ میں ہے سوائے سمجھ کے جو کسی آدمی کو اللہ کی وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ کتاب کے متعلق دی جائے اور سوائے اس کے جو بكَافِرٍ۔ اس ورق میں ہے۔ میں نے کہا: اس ورق میں کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: دیت اور قیدیوں کے چھڑانے کے احکام اور یہ کہ کسی کافر کے بدلے کوئی مسلمان نہ مارا جائے۔ أطرافه : ۱۱۱، ۱۸۷۰ ، ۳۰۴۷، ۳۱۷۲، ۳۱۷۹، 675۵، 1903، 7300۔ تشریح : لا يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ : کافر کے بد۔ کافر کے بدلے مسلمان کو نہ قتل کیا جائے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِن بِكَافِرِ کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ مگر ساری حدیث دیکھنے سے بات حل ہو جاتی ہے۔ حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں کہ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٌ فِي عَهْدِهِ۔ اس حدیث کا یہ دوسرا فقرہ کہ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ اس کے معنوں کو حل کر دیتا ہے اگر اس کے یہ معنے ہوں کہ کافر کے بدلہ میں مسلمان نہ مارا ل ذو عهد جائے تو پھر ذُو عَهْدٍ کے یہ معنے کرنے ہونگے کہ وَلَا ذُو عَهْدٍ بِكَافِرِ کہ کسی نہ کو بھی کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے۔ حالانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ پس یہاں کافر سے مراد محارب کا فر ہے نہ کہ عام کا فر۔ تبھی فرمایا کہ ذمی کافر بھی محارب کافر کے بدلہ میں نہیں مارا جائے گا۔ اب ہم صحابہ کا طریق عمل دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ بھی غیر مسلم کے مسلم قاتل کو قتل کی سزا ہی دیتے تھے۔ چنانچہ طبری جلد ۵ صفحہ ۴۴ میں تما زبان ابن ہرمزان اپنے والد کے قتل کا واقعہ بیان کرتا ہے۔ ہر مزان ایک ایرانی رئیس اور مجوسی المذہب تھا اور حضرت عمر خلیفہ ثانی کے قتل کی سازش میں شریک ہونے کا شبہ اس پر کیا گیا تھا۔ اس پر بلا تحقیق جوش میں آکر عبید اللہ بن عمرؓ نے اس کو قتل کر