صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 763
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۶۳ ۸۷ - كتاب الديات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِي بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ قَتَلَ مُعَاهِدًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنْقُه وَقَالَ أَنَا أَوْلى مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان لایا گیا جس نے ایک معاہد کا فر کو جو اسلامی حکومت کی رعایا بن چکا تھا قتل کر دیا تھا آپ نے اس کے قتل کئے جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں عہد پورا کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ عہد کی نگہداشت رکھنے والا ہوں ( نیل الاوطار جلد ۶ صفحه (۲۸۳) اسی طرح طبرانی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت روایت کی ہے کہ ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا تو آپ نے اس مسلمان کے قتل کئے جانے کا حکم دے دیا۔“ 66 ( تفسير كبير ، سورة البقرة، زیر آیت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ جلد ۲، صفحہ ۳۵۹) باب ۳۱: لَا يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ کافر کے بدلے مسلمان کو نہ قتل کیا جائے ٦٩١٥ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۱۹۱۵ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ أَنَّ عَامِرًا (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔ مطرف نے ہم سے حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قُلْتُ بیان کیا کہ عامر (شعبی) نے انہیں بتایا۔ عامر نے لِعَلِيّ ح وَحَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ابو جحیفہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا مُطَرِّف حضرت علی سے کہا۔ اور صدقہ بن بن فضل نے ہم سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَلِيًّا سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ مطرف نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے شعبی کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے ابو جحیفہ سے سنا۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی بات ہے جو مَرَّةً مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ فَقَالَ وَالَّذِي قرآن میں نہ ہو ؟ اور ابن عیینہ نے کبھی یوں کہا: جو فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا لوگوں کے پاس نہ ہو تو حضرت علیؓ نے فرمایا: اس