صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 762
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۶۲ ۸۷ - كتاب الديات اور حقوق کا آپ کو خاص خیال رہتا تھا۔ چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مَن قتل مُعَاهِداً لَمْ يَرِحُ رائحة الْجَنَّةِ یعنی جو مسلمان کسی معاہد کا فر کو قتل کرے گا، اسے جنت کی ہو ا تک نہیں پہنچے گی۔ نیز آپ نے یہ حکم جاری فرمایا تھا کہ جو مسلمان کسی معاہد کا فر کو یونہی غلطی سے بلا ارادے کے قتل کر دے اس کا فرض ہو گا کہ اس کے رشتہ داروں کو اس کی پوری پوری دیت ادا کرنے کے علاوہ ایک غلام آزاد کرے۔ معاہدہ کافر کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِداً أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ الطَّاقَةِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيْبٍ نَفْسِهِ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ یعنی جو مسلمان کسی معاہد کافر پر کسی قسم کا ظلم کرے گا یا اسے نقصان پہنچائے گا یا اس پر کوئی ایسی ذمہ داری یا ایسا کام ڈالے گا جو اس کی طاقت سے باہر ہے یا اس سے کوئی چیز بغیر اس کی خوشی اور مرضی کے لیے گا تو اے مسلمانو ! سن لو میں قیامت کے دن اس معاہد کافر کی طرف سے ہو کر اس مسلمان کے خلاف علی علوم اسلامی آداب ج آداب جہاد، صفحه ۳۶۴) ما الليل انصاف چاہوں گا۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی ا م ا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دو مسند احمد بن حنبل، بخاری، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرِحُ رائحة الجنة یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کافر معاہد کو مار دے وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گا۔ اور یہی سزا قرآن کریم میں ریم میں ایک مسلمان کے قاتل کی بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خُلِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَ لَعَنَهُ وَ أَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (نساء آیت (۹۴) یعنی جو شخص کسی مومن کو دیدہ دانستہ قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہو گی وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا اور اُسے اپنے قرب سے محروم کر دے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرے گا۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ چنانچہ ابو جعفر طحاوی اپنی کتاب ”شرح معانی الاثار “ میں لکھتے ہیں ان النبي