صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 761
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۶۱ ۸۷ - كتاب الديات کے طرح اگر کنواں کھودنے کے لیے مزدور لگائے اور دوران کھدائی مزدور گر کر یا کنویں کی دیواروں کے گرنے یا کان کنی ، دوران مر جائیں تو مالک پر دیت نہیں ہے۔ گو اب کمپنیاں اور حکومتیں انشورنس کے ذریعہ رقم دلاتے ہیں۔ اگر کسی کے غیر قانونی فعل کی وجہ سے دوسرے کو نقصان پہنچے تو نقصان پہنچانے والے پر اس کا تاوان ڈالا جائے گا۔ اگر کوئی کسی جانور کو چھیڑے اور وہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے تو چھیڑنے والے پر تاوان ہو گا۔ اگر کوئی سواری کو اس طرح دوڑائے جس سے دوسرے کا نقصان ہو تو دوڑانے والا ذمہ دار ہو گا۔ اگر اچانک لگام یا سٹیرنگ موڑ دے تو سواریوں کے نقصان کا وہ ڈرائیور ذمہ دار ہو گا۔ بے زبان جانور کسی کو مار دے بشرطیکہ اس میں مالک کی غفلت کا دخل نہ ہو تو مرنے والے کی دیت نہ ہو گی۔ زیر باب تعلیقات اور روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان سنہری اصولوں کی روشنی میں آج انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے یا کم کرنے میں راہنمائی کی جا سکتی ہے نیز ٹریفک قوانین میں بہتری لائی جا سکتی ہے ہے اور ذمہ داروں داروں کو سزائیں دے کر بہت سے حادثات سے قیمتی جانوں کے ضیاع کو بچایا جا سکتا ہے۔ اصول یہی ہے کہ جو غیر قانونی کام کرے گا اس کا نتیجہ یا سزا بھگتنی ہو گی۔ باب ٣٠ : إِثْمُ مَنْ قَتَلَ ذِمِيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ اس شخص کا گناہ جو کسی ذمی کو بغیر جرم کے مار ڈالے ٦٩١٤ : حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ۱۹۱۴ : قیس بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عبد الواحد نے ہمیں بتایا حسن ( بن عمر و عقیمی نے حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو ہم سے بیان کیا۔ مجاہد نے ہمیں بتایا۔ مجاہد نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عبداللہ بن عمرو سے، عبد اللہ نے نبی صلی اللہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ ايسے نفس کو مار ڈالا جس سے معاہدہ کیا جا چکا ہے وہ أَرْبَعِينَ عَامًا۔ طرفه : ٣١٦٦ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا اور جنت کی خوشبو تو چالیس سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے۔ تشريح إِثْمُ مَنْ قَتَلَ دَقِيًّا بغیر جزیہ : اس کا گناہ جوکس ای کو بغیر جرم کے مارڈالے۔ بِغَيْرِ جُرْمٍ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کفار میں سے جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر لیتے تھے ان کی حفاظت