صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 760
صحیح البخاری جلد ۱۵ 24۔۸۷ - كتاب الديات وَقَالَ حَمَّادٌ لَا تُضْمَنُ النَّفْحَةُ إِلَّا أَنْ باگ موڑنے کی وجہ سے نقصان کا تاوان دلایا يَنْخُسَ إِنْسَانٌ الدَّابَّةَ۔وَقَالَ شُرَيْحٍ کرتے تھے اور حماد نے کہا: لات مارنے کا تاوان لَا تُضْمَنُ مَا عَاقَبَتْ أَنْ يَضْرِبَهَا نہ دلایا جائے۔مگر یہ کہ کوئی آدمی جانور کو کچوکے فَتَضْرِبَ بِرِجْلِهَا وَقَالَ الْحَكَمُ وَحَمَّادٌ دے اور شریح نے کہا: اس جانور کا تاوان نہیں إِذَا سَاقَ الْمُكَارِي حِمَارًا عَلَيْهِ امْرَأَةٌ ولا یا جاتا جس کو آدمی سزادے اور وہ اس کی سزا کے عوض میں اپنی لات سے مارے اور حکم (بن فَتَخِرُّ لَا شَيْءٍ عَلَيْهِ۔وَقَالَ الشَّعْبِيُّ عتبہ ) اور حماد بن ابی سلیمان) نے کہا: اگر سواری إِذَا سَاقَ دَابَّةٌ فَأَتْعَبَهَا فَهُوَ ضَامِنٌ کو چلانے والا گدھے کو ہانکے جس پر کوئی عورت لِمَا أَصَابَتْ وَإِنْ كَانَ خَلْفَهَا مُتَرَسِلًا سوار ہو اور وہ گر پڑے تو اس پر کوئی تاوان نہ ہو گا اور شعبی نے کہا: اگر جانور ہانکے اور اس کو تھکا دے لَمْ يَضْمَنْ۔رَضِيَ تو وہ ضامن ہو گا اس نقصان کا جو وہ جانور کرے اور اگر وہ اس کے پیچھے آرام سے آہستہ آہستہ چلا جارہا ہو تو وہ ضامن نہ ہو گا۔٦٩١٣ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۶۹۱۳: مسلم ( بن ابراہیم ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن زیاد سے، اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله ابن زیاد نے حضرت ابوہریرۃ سے، حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَجْمَاءُ عَقْلُهَا جُبَارٌ ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔وَالْبِشْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي آپ نے فرمایا: جو بے زبان جانور ہیں اُن کی دیت کچھ بھی نہیں اور کنواں بھی بلا تاوان ہوتا ہے اور الرِّكَازِ الْحُمُسُ۔أطرافه : ١٤٩٩، ٢٣٥٥، ٦٩١٢۔معدن بھی بلا تاوان اور دفینہ میں پانچواں حصہ حکومت کا ہوتا ہے۔تشريح۔الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِثْرُ جُبَارٌ : کان کنی کرتے یا کنواں کھود نے مرنے والوں کے دیت نہیں ہے۔اگر کوئی بے آباد کنویں میں گر کر مر جائے تو اس میں کوئی دیت نہیں ہو گی یا کسی نے اپنی زمین میں کنواں کھودا اور اس میں کوئی انسان یا جانور گر کر مرگیا تو کنویں یاز مین کے مالک پر اس کی دیت نہ ہوگی۔اسی