صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 759
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۵۹ ۸۷- كتاب الديات تشریح : مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا : جس نے کسی غلام یا بچے کو مد کے لئے لیا۔زیر باب تعلیق سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ میں خدمت خلق کو رواج دینا چاہیئے اور بچپن سے ہی بچوں کو بزرگوں کی خدمت اور توقیر کے آداب سکھانے چاہیں۔یہ بچوں کے لیے صحبت صالحین اور بزرگوں سے سیکھنے کا ایک عمدہ طریق ہے اور تعاونوا علی البر کا ایک عملی مظاہرہ ہے۔مگر اس سے جبری مشقت کا جو از تلاش کرنا وَضَعُ الشَّيْءٍ فِي غَيْرِ فَحَلِهِ ہے۔اسلام والدین کو تاکید کرتا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کریں اور اسے بچوں کے لیے بہترین تحفہ قرار دیتا ہے۔بچوں سے جبری مشقت کرانا اور ان کے تعلیم کے زمانہ کو مزدوری میں ضائع کرنا درست نہیں۔اگر والدین اسکی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو تنظیم یا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ان کے بے سہارا والدین کے لیے مالی امداد کا مستقل انتظام کرے تاکہ بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر معاشرے کے مفید وجود بن سکیں۔باب ۲۸: الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِثْرُ جُبَارٌ کان کنی کرتے یا کنواں کھودتے مرنے والوں کی دیت نہیں ہے ٦٩١٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۹۱۲: عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ لیث نے ہمیں بتایا۔ابن شہاب نے ہم سے بیان سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ کیا۔اُنہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عبد الرحمن سے، اُن دونوں نے حضرت ابوہریرہؓ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِثْرُ جُبَارٌ فرمایا: بے زبان جانور جو ہیں اُن کے لگائے ہوئے زخم بلا تاوان ہوتے ہیں اور کنواں بھی بلا تاوان وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْحُمُسُ۔ہوتا ہے اور کان بھی بلا تاوان ہوتی ہے اور دفینہ میں پانچواں حصہ حکومت کا ہوتا ہے۔أطرافه : ١٤٩٩، ٢٣٥٥، ٦٩١٣ - بَاب ۲۹: الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ بے زبان جانور بلا تاوان ہوتے ہیں وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ كَانُوا لَا يُضَمِنُونَ اور ابن سیرین نے کہا: وہ جانور کے لات مارنے مِنَ النَّفْحَةِ وَيُضَمِّنُونَ مِنْ رَبِّ الْعِنَانِ سے نقصان کا تاوان نہیں دلایا کرتے تھے اور