صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 758 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 758

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۵۸ ۸۷ - كتاب الديات کو بچایا جا سکتا ہے۔ابارشن یعنی اسقاط حمل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے فرمایا: اگر طبی طور پر ڈاکٹر مریض کو کہے کہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہے وہ اتنا مریض ہے کہ وہ ماں کی زندگی کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے تو اس صورت میں اسلام ابارشن یعنی اسقاط حمل کی اجازت دیتا ہے۔“ مجلس سوال و جواب ناصر باغ ، ۲۰ مئی ۱۹۹۹ بر موقع دوره جرمنی مطبوعه الفضل انٹر نیشنل ۲۵، جون ۱۹۹۹ صفحه ۱۳) بَاب ٢٧: مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا جس نے کسی غلام یا بچے کو مدد کے لئے لیا وَيُذْكَرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ بَعَثَتْ إِلَى مُعَلِّم اور ذکر کیا جاتا ہے کہ حضرت اُم سلمہ نے مدرسہ الْكُتَابِ ابْعَثْ إِلَيَّ غِلْمَانًا يَنْفُشُونَ کے معلم کو کہلا بھیجا کہ میرے پاس کچھ لڑکے بھیجو صُوفًا وَلَا تَبْعَثْ إِلَيَّ حُرًّا۔جو اون دھنکیں اور کسی آزاد لڑکے کو نہ بھیجنا۔٦٩١١ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ :۶۹۱۱: عمرو بن زرارہ نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عبد العزیز سے، عبد العزیز نے حضرت انس سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي علیہ وسلم مدینہ آئے تو حضرت ابوطلحہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! انس ایک ہوشیار لڑکا ہے اجازت دیں کہ یہ آپ کی خدمت کرے۔أَنَسًا غُلَامٌ كَيْسٌ فَلْيَحْدُمْكَ قَالَ حضرت انس کہتے تھے: میں نے حضر اور سفر میں فَحَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَوَاللَّهِ آپ کی خدمت کی اور اللہ کی قسم آپ نے مجھ سے مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ کسی کام پر بھی کہ جو میں نے کیا مجھ سے نہیں کہا کہ هَذَا هَكَذَا وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ تم نے یہ اس طرح کیوں کیا۔اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جو میں نے نہیں کیا آپ نے مجھ سے کہا کہ تم فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا۔أطرافه: ٢٧٦٨ ، ٦٠٣٨ - نے یہ اس طرح کیوں نہیں کیا۔