صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 757
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۵۷ ۸۷ - كتاب الديات فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ الله فَقَضَى کو پتھر مارا اور اُس نے اُس عورت کو اور اُس کے أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ بچے کو بھی جو اُس کے پیٹ میں تھا مار ڈالا۔ اُن وَقَضَى أَنَّ دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا ۔ کے رشتہ دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لائے تو آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اُس کے جنین کی دیت پردہ ہو رگی غلام ہو یا لونڈی اور آپ نے فیصلہ فرمایا اس مقتولہ عورت کی دیت اس قاتلہ عورت کے دودھیال کے ذمہ ہو گی۔ أطرافه: ٥٧٥٨، ٥٧٥٩ ، ٥٧٦٠ ، ٦٧٤٠، ٦٩٠٤ ، ٦٩٠٩۔ تشریح : جَنِينُ الْمَرْأَة : عورت کا وہ بچہ جو ابھی پیٹ میں ہو۔ علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں کہ انجنین عَلَى وَزْنِ قَتِيلِ حَمْلُ الْمَرْأَةِ مَا دَامَ فِي بَطْنِهَا سُنَيَ بِذَلِكَ لِاسْتِتَارِهِ فَإِنْ خَرَجَ حَيًّا فَهُوَ وَلَدٌ وَإِنْ خَرَجَ مَيْتًا فَهُوَ سَقْطُ، سَوَاءٍ كَانَ ذَكَرًا أَو أُنْفَى مَا لَمْ يَسْتَهِلْ صَارِضًا (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۶۶) جنین کا لفظ فعیل کے وزن پر ہے عورت کا حمل جب تک اس کے پیٹ میں ہو جنین کہلاتا ہے یہ نام اس کے پردے کے اندر کے پردے کے ہونے یا چھپے ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ اگر وہ بچہ زندہ پیٹ سے باہر نکل آئے تو وہ ولد ہے اور اگر وہ مردہ ہونے کی حالت میں باہر نکلے تو ساقط کہلائے گا جب تک کہ وہ روتے ہوئے نہ چلائے (رونا اور چلانا اس کی زندگی کی علامت ہے) خواہ مذکر ہو یا مونث۔ زیر باب جس واقعہ کا ذکر ہے وہ ہذیل قبیلہ کا ہے۔ بعض روایات میں بنو لحیان کا ذکر ملتا ہے بنو لحیان قبیلہ ہذیل اہے بنو کی ہی شاخ تھی۔ ہذیل قبیلہ کی لڑنے والی دونوں عورتیں حمل بن نابغہ کی بیویاں تھیں۔ ان میں سے ایک حاملہ تھی دوسری نے اسے خیمے کا بانس مارا جس سے وہ حاملہ عورت اور اس کا بچہ فوت ہو گئے تو مقتولہ عورت کا خاوند قاتلہ عورت کے باپ کے پاس گیا۔ باپ نے کہا اس کی دیت اس کے بیٹوں کے ذمہ ہے جو بنو لحیان کے سردار ہیں پھر یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے فیصلہ فرمایا کہ دیت قاتلہ کے دودھیال کے ذمہ ہے اس کے بیٹوں پر نہیں ہو گی۔ (فتح الباری، جزء ۱۲ صفحه ۳۰۸ تا ۳۱۰) وہ زیر باب روایت میں جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ ایسے قتل کا واقعہ ہے جس میں مارنے والی کا مقصد جان سے مارنا نہ تھا اس لیے اس سے دیت لی گئی اور بچہ چونکہ پیٹ کے اندر ہی مر گیا اس لیے اس کے عوض غلام یا لونڈی آزاد کرنے کا حکم دیا۔ شارحین نے لکھا ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ بچہ ماں کے مرنے کے بعد مردہ حالت میں پیٹ سے نکلا یا ماں کی موت سے پہلے۔ مذکورہ بالا تو قتل کی واردات ہے۔ چاہے اس کا سبب ا سبب کچھ بھی ہو مگر بعض ا اوقات حاملہ عورت دورانِ حمل ایسی تکلیف کا شکار ہو جاتی ہے کہ ماں اور بچہ دونوں خطرے میں ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کے نزدیک کسی ایک