صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 753
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۵۳ ۸۷ - كتاب الديات الْقُرْآنِ إِلَّا فَهُمَا يُعْطَى رَجُلٌ فِي فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس نے دانہ چیر کر پیدا كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ وَمَا کیا اور جان کو بنایا ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہی فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَالُ ہے جو قرآن مجید میں ہے سوائے اس سمجھ کے جو الْأَسِيرِ وَأَنْ لَّا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ۔ آدمی کو اللہ کی کتاب کے متعلق دی جاتی ہے یا اس کے سوا جو ایک ورق میں ہے۔ میں نے کہا: اُس ورق میں کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: دیت اور قیدیوں کو چھڑانے کے احکام اور یہ کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے نہ مارا جائے۔ أطرافه: ۱۱۱ ، ۱۸۷۰ ، ۳۰۴۷ ، ۳۱۷۲، ۳۱۷۹ ، 67۵۰، 6915 ، 7300- تشریح : العاقلة : وہ لوگ جن پر دیت کا ادا کر نالازم ہوتا ہے ۔ دیت کی ادائ ۔ دیت کی ادائیگی عاقلہ کے ذمہ ہے۔ عاقلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو قاتل کے دو دھیال کی طرف سے ہوں باپ دادا چا بھائی بھتیجے وغیرہ ۔ وہ آپس میں تقسیم کر کے اپنے اپنے حصہ کی ادائیگی کر سکتے ہیں باپ یا بھائی اکیلے بھی کر سکتے ہیں۔ علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں۔ عاقلہ عاقل کی جمع ہے۔ دیت کو عقل بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی اونٹ باندھنے کے ہیں کیونکہ مقتول کے ولی اور وارث کے گھر کے صحن میں (دیت میں دیئے جانے والے ) اونٹوں کو باندھ دیا جاتا تھا۔ اس لیے دیت کے لیے عقل کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے چاہے دیت میں اونٹ نہ بھی لیے گئے ہوں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عقل یعقل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں اٹھانا۔ کیونکہ قاتل یا اس کے خاندان والے دیت کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ان کو عاقلہ کہا جاتا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہے منع کرنا اور دفع کرنا، اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ہر وہ شخص جو قتل کرتا تھا وہ اپنی قوم کی پناہ لیتا تھا کیونکہ اس قاتل کو قتل کرنے کے لیے طلب کیا جاتا تھا، اس قوم کے لوگ اس کے قتل کرنے سے منع کرتے تھے اور روکتے تھے، تو اس کی قوم کو عاقلہ یعنی مانعہ کہا گیا۔ بَاب ٢٥ : جَنِينُ الْمَرْأَةِ عورت کا وہ بچہ جو ابھی پیٹ میں ہو (عمدة القاری، جزء ۲۴، صفحه (۶۵) ٦٩٠٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۹۰۴: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ح۔ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ مالک نے ہمیں بتایا۔ اور اسماعیل نے ہم سے بیان