صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 750 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 750

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۵۰ ۸۷ - كتاب الديات تشريح : القَسَامَةُ : شہادت کے نہ ہونے پر قسمیں دلوانا علامہ کرمانی امہ کرمانی لکھتے ہیں قسامت کا لفظ خون پر قسم لینے سے ماخوذ ہے۔ ادھری کہتے ہیں قسامت اس چیز کا نام ہے جس میں مقتول کے ورثاء مقتول کے خون کے استحقاق پر قسم کھاتے ہیں۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۵۷) مقتول کے خواب کے قسامت سے مراد ایسا حلف ہے جسے مقتول کے ورثاء ملزم پر قتل ثابت کرنے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ قسامت کی صورت یہ ہے کہ کسی بستی یا شہر میں کوئی آدمی قتل ہو جائے اور اس کے قاتل کا علم : ، قاتل کا علم نہ ہو سکے لیکن مقتول کا وارث اس کے قتل کا الزام کسی آدمی یا جماعت پر لگائے۔ الزام لگانے والے مدعی سے ثبوت مانگا جائے گا کہ وہ کس بناء پر ان لوگوں پر الزام لگا رہا ہے آیا اس کی ان سے دشمنی تھی یا قتل کی کوئی اور وجہ تھی۔ قسامت میں اس بستی یا علاقے کے پچاس لوگوں سے قسم لی جائے گی کہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے نہ اس کے قتل کے متعلق انہیں کوئی علم ہے۔ قسامت کا یہ طریق قبیلہ یا قوم پر الزام کی صورت میں ہے۔ قسامت میں قصاص نہیں لیا جاتا بلکہ دیت لی جاتی ہے کیونکہ اس میں مجرم کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ عنوان باب میں امام بخاری حضرت اشعث بن قیس کی روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ کہ تم گواہ لا و بصورت دیگر مدعی علیہ کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔ امام بخاری نے زیر باب حضرت امیر معاویہ کا فیصلہ درج کیا ہے لَمْ يُقِدُ بِهَا مُعَاوِيَةُ کہ حضرت معاویہ نے قسموں کی بناء پر بدلہ نہیں لیا۔ الزام ثابت نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ اگر قسم کھالے تو وہ الزام سے بری ہو جائے گا۔ بَاب ۲۳ : مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَتُوا عَيْنَهُ فَلَا دِيَةَ لَهُ جو لوگوں کے گھر میں جھانکے اور وہ اس کی آنکھ کو پھوڑڈالیں تو اس کو کوئی دیت نہیں ملے گی ٦٩٠٠: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ ۱۹۰۰ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبید اللہ بن ابی بکر بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ بن انس سے ، عبید اللہ نے حضرت انس رضی اللہ رَجُلًا اطَّلَعَ { مِنْ حُجْرٍ فِي بَعْضِ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کے حجروں میں سے کسی میں جھانکا تو فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ بِمَشَاقِصَ آپ ایک تیر لے کر اُس کی طرف اُٹھ کر گئے۔ " ے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ” من محجر “ کے الفاظ ہیں۔ (فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۳۰۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔