صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 723 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 723

صحیح البخاری جلد ۱۵۔۔۷۲۳ ۸۷ - كتاب الديات ح : مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلُ فَهُوَ بِغَيْرِ النَّظرين: جس شخص کا کوئی مارا جائےتو وہ دو باتوں میں سے ایک بات کے اختیار کرنے کا مجاز ہے۔جس سال مکہ فتح کیا گیا خزاعہ نے بنولیث کے ایک شخص کو اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جس کو زمانہ جاہلیت میں مارا گیا تھا مار ڈالا۔علامہ عینی خزاعہ قبیلے کے بارے میں لکھتے ہیں: خزاعہ ایک قبیلہ کا نام ہے جو مکہ پر غالب آگئے تھے اور اس پر حکومت کرتے تھے پھر ان کو مکہ سے نکال دیا گیا اور وہ مکہ کے بیرونی حصہ میں رہنے لگے۔ان کے اور بنو بکر کے در میان زمانہ جاہلیت میں کھلی دشمنی تھی۔اور خزاعہ بنو ہاشم بن عبد مناف کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد تک حلیف تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے۔خزاعہ کے جس مرد نے قتل کیا تھا اس کا نام خراش بن امیہ الخزاعی اور اُن کے مقتول کا نام احمر تھا۔لیکن بنولیث کے مقتول کا نام معلوم نہیں۔بنولیث مشہور قبیلہ ہے جس کی نسبت لیث بن بکر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر کی طرف ہے۔(عمدة القاری، جزء ۲۴ صفحه ۴۳) الاذخر : اذخر ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے جس کو گھروں کی چھتوں میں لکڑیوں کے اوپر ڈالتے ہیں۔عنوان باب کے الفاظ اور زیر باب روایات میں مقتول کے ورثاء کے لیے دو قسم کے اختیار کا ذکر ہے کہ وہ قاتل سے بطور قصاص بدلہ لیں یا عفو کرتے ہوئے دیت پر راضی ہوں۔اسلام سے قبل مذاہب میں قصاص کا دستور تھا جیسا کہ زیر باب روایت ۶۸۸۱ میں حضرت ابنِ عباس کا قول امام بخاری نے درج کیا ہے كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمْ اللَّيَةُ یعنی بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور اُن میں دیت نہ تھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورة البقرة آيت ١٧٩ فَمَنْ عُفِى لَهُ مِنْ آخِیهِ شَيْ ء کی تفسیر میں فرماتے ہیں: " اگر کسی مقتول کے وارث کسی مصلحت کے ماتحت قاتل کو اس کے جرم کا کچھ حصہ معاف کر دیں تو ان کو اختیار ہے۔بعض لوگ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ حکومت کو قاتل کے گرفتار کرنے یا اس کو سزا دینے کا کوئی اختیار نہیں۔بلکہ یہ تمام اختیار مقتول کے ورثاء کو حاصل ہے مگر یہ درست نہیں اس جگہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء احسان کے طور پر قاتل کو معاف کر دیں تو حکومت کو اُن کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے اس حق معافی کے سوارشتہ داروں کا کوئی تعلق قاتل کے ساتھ نہیں۔قاتل کو گرفتار کرنا یا اس پر مقدمہ چلانا حکومت ہی کا کام ہے اور اُسی کے ذمہ ہے جیسا کہ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلی میں حکومت کے ذمہ وار افسران کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ وہ قتل کے واقعات کی چھان بین کریں اور مجرم کو قرار واقعی سزا دلوائیں۔