صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 722 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 722

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۲ ۸۷ - كتاب الديات ٦٨٨١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۶۸۸۱: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُجَاهِدٍ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ (بن دینار) سے، اُنہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ وَلَمْ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کی اُنہوں نے کہا: بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور اُن تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتلی میں دیت نہ تھی۔ اللہ نے اس اُمت کے لئے فرمایا: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے اگر شَيْء ۔۔۔ (البقرة : ۱۷۹) (قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل) سے اور اگر ( قاتل) غلام ہو تو اسی غلام ( قاتل) سے اور اگر (قاتل) عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے مگر جس ( قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے تو (مقتول کا وارث بقیہ تاوان کو صرف) مناسب طور پر وصول کر سکتا ہے اور (قاتل پر) عمدگی کے ساتھ (بقیہ تاوان) اس کو ادا کر دینا (واجب) ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے پھر جو شخص اس (حکم) کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لئے درد ناک عذاب (مقدر) ہے۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ حضرت ابن عباس نے کہا: یہاں عفو سے یہ مراد فِي الْعَمْدِ۔ قَالَ فَاتِّبَاعُ بِالْمَعْرُوفِ ہے کہ قتلِ عمد میں دیت قبول کر لے۔ انہوں نے (البقرة: ۱۷۹) أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ کہا : فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ سے یہ مراد ہے کہ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ۔ طرفه: ٤٤٩٨ - شریفانہ طریقے سے مطالبہ کرے اور وہ عمدگی سے ادا کرے۔