صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 718 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 718

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۱۸ ۸۷ - كتاب الديات ٦٨٧٨: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا ۶۸۷۸ : عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ اعمش نے عبد اللہ بن مرہ سے ، عبد اللہ نے مسروق قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( بن اجدع) سے، مسروق نے حضرت عبداللہ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِي يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ (بن مسعود) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى آدمی کا خون جائز نہیں جو یہ اقرار کرتا ہو کہ اللہ ثَلَاثَ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالطَّيِّبُ الزَّانِي کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول وَالْمَفَارِقُ لِدَيْنِهِ التَّارِكُ لِلْجَمَاعَةِ۔ ہوں، سوائے تین صورتوں میں سے ایک صورت میں ، جس نے کسی نفس کو مار ڈالا ہو اور شادی شدہ زانی اور وہ شخص جو دین سے نکل گیا ہو اور جماعت کو چھوڑنے والا ہو۔ تشريح ۔ أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَلْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ ۔۔۔۔ جان جان کے بدلے اور آنکھ آنکھ کے بدلے اور ناک ناک کے بدلے اور کان کان کے بدلے اور دانت دانت کے بدلے اور زخموں کا بھی بدلہ لیا جائے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ ا سیح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیان بعض لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام - اسلام نے قتل کے بارہ میں جو کچھ کیا ہے صرف بائیبل کے تتبع میں کیا ہے خود اصولی رنگ میں اس بارہ میں کوئی ہدایت نہیں دی ۔ ان کے نزدیک یہودیوں کو جو یہ کہا گیا تھا کہ ان النفس بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصُ (مائده آیت (۴۶) یعنی جان کے بدلہ میں جان اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ اور ناک کے بدلہ میں ناک اور کان کے بدلہ میں کان اور دانت کے بدلہ میں دانت اور زخموں کے بدلہ میں زخم برابر کا بدلہ ہیں اس حکم کو قرآن کریم نے اس جگہ دُہرا دیا ہے مگر ان کا یہ خیال محض قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔ میرے نزدیک بنی نوع انسان کی مذہبی، سیاسی، تمدنی اور عائلی زندگی کے ساتھ تعلق زندگی رکھنے والا کوئی مسئلہ بھی ایسا نہیں جسے اسلام نے پوری وضاحت کے ساتھ بیان نہ کیا