صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 717
صحیح البخاری جلد ۱۵ 212 ۸۷ - كتاب الديات هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ جَدِهِ نے شعبہ سے، شعبہ نے ہشام بن زید بن انس أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَتْ جَارِيَةٌ سے، ہشام نے اپنے دادا حضرت انس بن مالک عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَرَمَاهَا سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: ایک لڑکی مدینہ يَهُودِيٍّ بِحَجَرٍ قَالَ فَجِيءَ بِهَا إِلَى میں باہر نکلی اس نے چاندی کے زیور پہنے ہوئے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا تھے۔حضرت انس کہتے تھے: ایک یہودی نے اس رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کو پتھر مار کر گھائل کر دیا۔کہتے تھے: اس لڑکی کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَرَفَعَتْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ابھی اس میں رَأْسَهَا۔فَأَعَادَ عَلَيْهَا قَالَ فُلَانٌ کچھ جان باقی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا۔کیا فلاں شخص نے تمہیں مارا ہے ؟ قَتَلَكِ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا۔فَقَالَ لَهَا اس نے اپنا سر اُٹھایا۔پھر آپ نے اس سے پوچھا۔فِي الثَّالِثَةِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَخَفَضَتْ کیا فلاں نے تمہیں مارا ہے ؟ اس نے اپنا سر اُٹھایا۔رَأْسَهَا فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ پھر آپ نے تیسری مرتبہ اس سے پوچھا۔کیا فلاں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ۔نے تمہیں مارا ہے ؟ اُس نے اپنا سر جھکایا اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور آپ نے اس کو بھی دو پتھروں سے مار ڈالا۔أطرافه: ٢٤١٣، ٢٧٤٦، ۵۲۹٥، ۶۸۷۶، ٦٨۷۹، ٦٨٨٤، ٦٨٨٥- باب :٦: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَ الْأَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالأذْنَ بِالأُذُنِ وَالسّنَ بِالسّنِ وَالْجُرُوحَ قِصَاصُ ط اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جان جان کے بدلے اور آنکھ آنکھ کے بدلے اور ناک ناک کے بدلے اور کان کان کے بدلے اور دانت دانت کے بدلے اور زخموں کا بھی بدلہ لیا جائے۔فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۖ وَمَنْ جس نے اپنے گناہوں کے بدلہ میں صدقہ دیا تو وہ لَّم يَحْكُم بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ صدقہ اس کے لئے کفارہ ہو گا اور جو لوگ اس حکم الظَّلِمُونَ (المائدة : ٤٦) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا تو وہی ظالم ہیں۔و و