صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 716 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 716

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات تشريح : سُؤَالُ الْقَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ وَالْإِقْرَارُ في الحدود: قاتل سے دریافت کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کرے اور شرعی سزاؤں میں اقرار کرنا۔ قصاص یا سزا مدعی کے دعوی پر نہیں دی جا سکتی بلکہ سزا کے تین بنیادی اصول ہیں۔ (۱) اقبالِ جرم (۲) شہادتیں (۳) شناخت یعنی اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مدعی علیہ وہی ہے جس نے جرم کیا ہے تاکہ کوئی بے گناہ یا غیر متعلقہ شخص سزا کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔ زیر باب روایت میں ملزم کی تفتیش کرنے کا ذکر ہے، نیز مدعی علیہ کے اقرار اور اقبالِ جرم کا ذکر ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ۶۸۷۶ کے الفاظ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقرَّ کہ آپ اس سے پوچھتے رہے یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا اس لیے اس یہودی کے اقبال جرم کے نتیجہ میں اسے قتل کیا گیا۔ قصاص میں اگر چہ یہ ضروری نہیں ہے کہ قاتل نے جس آلہ قتل سے مقتول کو قتل کیا ہو اسی سے اس کو قتل کیا جائے مگر قصاص کا مقصد چونکہ مجرم کو عبرت کا نشانہ بنانا بھی ہے اس لیے اسی طریق اور اسی آلہ کو استعمال کرنا موقع محل کے مطابق زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ اس واقعہ میں کیا گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تحقیقات کرنے پر انہوں نے اس کو ایک دوسرے پر تھوپا۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ انے مدینے کے سارے بد معان بد معاشوں کو جمع کیا اور اس عورت کے آگے سب کو پیش کیا۔ وہ بول تو نہ سکتی تھی مگر قوت ممیزہ اس میں تھی۔ جب قاتل کو اس کے سامنے لایا گیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا کہ یہی ہے۔ اس کو نبی کریم صلی الیم نے کئی پیچوں سے اس عورت پر پیش کیا مگر وہ اس کو پہچان لیتی۔ اس کا ذکر بخاری شریف میں ہے۔ اس بد معاش نے اس عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا تھا۔ کچھ زیور کے لالچ سے۔ وَاللهُ مُخْرِجُ مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (البقرة: ۷۳) اللہ اس بات کو نکالنے والا تھا، آخر وہ بات نکل آئی۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا (البقرۃ: ۷۴) تب ہم نے اس قاتل کو مارنے کا حکم دیا۔ اور یہ اس کے بعض کا بدلہ تھا۔ اس نے پہلے بھی کئی بد معاشیاں کیں اور آگے بھی وہ کرتا۔ اس لئے یہ سزا اس کے بعض کی ہے۔ (خطبات نور، خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴، نومبر ۱۹۱۳، خطبات نور صفحه ۶۳۵) باب ٥: إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَضًا اگر کوئی پتھر سے یا لاٹھی سے مار ڈالے ٦٨٧٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۶۸۷۷ : محمد بن عبد اللہ بن نمیر ) نے ہم سے بیان عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ کیا کہ عبد اللہ بن اور لیس نے ہمیں بتایا۔ انہوں