صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 715
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۱۵ ۸۷ - كتاب الديات کل رسوم گویا هَلم جرا کی طرح کا یہ فقرہ ہے اور مراد یہ ہے کہ اس حکم کے ذریعہ وہ تمام امتیاز مٹا دیئے گئے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ عربوں میں بعض خاندانوں کو بڑا سمجھا جاتا تھا اور بعض کو چھوٹا۔ بعض کو آزاد سمجھا جاتا تھا اور بعض کو غلام اور جب کسی سے کوئی جرم سرزد ہوتا تو وہ لوگ یہ دیکھا کرتے تھے کہ آیا مجرم غلام ہے یا آزاد۔ اور اگر غلام ہے تو کسی بڑے آدمی کا غلام ہے یا چھوٹے کا۔ مرد ہے یا عورت، اعلیٰ خاندان میں سے ہے یا ادنیٰ خاندان میں سے، میں سے امیر ہے یا غریب۔ اور رہے یا غریب اور سزا میں ان تمام امور کو ملحوظ رکھا جاتا اور آزاد مردوں اور عورتوں کو وہ سزائیں نہ دی جاتیں جو غلام مردوں اور عورتوں کو دی جاتی تھیں۔ اسی طرح اعلیٰ خاندانوں کے افراد کو وہ سزائیں نہیں دی جاتی تھیں جو ادنی خاندانوں کے افراد کو دی جاتی تھیں۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة، زير آيت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ جلد ۲، صفحہ ۳۶۱) بَاب ٤ : سُؤَالُ الْقَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ وَالْإِقْرَارُ فِي الْحُدُودِ قاتل سے دریافت کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کرے اور شرعی سزاؤں میں اقرار کرنا ٦٨٧٦ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۶۸۷۶: حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ ہمام بن يحي) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَ ہے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ؟ أَوْ فُلَانٌ؟ سر دو پتھروں سے پیس ڈالا۔ اُس لڑکی سے لی سے پوچھا حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ۔ فَأْتِيَ بِهِ النَّبِيُّ گیا یہ تم سے کس نے کیا؟ کیا فلاں شخص نے یا فلاں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ نے؟ یہاں تک کہ اُس یہودی کا نام لیا گیا۔ اُسے حَتَّى أَقَرَّ، فَرُضٌ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپؐ اس سے پوچھتے رہے یہاں تک کہ اس نے اس فعل کا اقرار کیا اور پھر اُس کا سر بھی پتھر سے کچلا گیا۔ أطرافه: ٢٤١٣، ٢٧٤٦ ، ۵۲۹٥، ۱۸۷۷ ، ٦۸۷۹، ٦٨٨٤، ٦٨٨٥۔