صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 691 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 691

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۱ ۸۶- کتاب الحدود جرائم ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں ایک شاہد کافی ہوتا ہے مثلاً میں جارہا ہوں اور میں نے دیکھا کہ زید بکر کو مار رہا ہے پس اسکے لئے چار شاہدوں کی ضرورت نہیں۔میں بحیثیت مجسٹریٹ خود اپنی شہادت پر ہی اسے سزا دے سکتا ہوں۔دراصل وہ جرائم جن میں چار گواہوں کی شہادت اسلام میں قرار دی گئی ہے وہ سو سائٹی سے تعلق رکھنے والے جرائم ہیں اور ایسے جرائم میں گواہوں کو مجسٹریٹ خود نہیں بلا سکتا جب تک وہ خود بطور مدعی پیش نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ ہم فلاں بات کے گواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ فلاں شخص پر مقدمہ چلایا جائے۔لیکن مقدمہ شروع ہونے کے بعد اگر ان میں سے ایک بھی الزام لگانے سے انکار کر جائے تو باقی تین کو سزا ملے گی۔جیسا کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر پہلا ہی گواہ مکر جائے تو باقی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنی شہادت بند کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم اب شہادت دینا نہیں چاہتے۔لیکن اگر پہلے وہ الزام زنا میں شہادت دے چکے ہوں اور چوتھا مکر جائے تو شہادت دینے والوں کو سزا دی جائے گی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسی طرح ہو ا تھا کہ تین گواہوں کے بعد جب چوتھے کی باری آئی تو اس کی شہادت مشتبہ پائی گئی۔اس پر شہادت دینے والوں کو سزادی گئی۔دراصل شریعت کا منشاء یہ ہے کہ ایسی باتوں کی اشاعت نہ کی جائے۔“ فرمودات مصلح موعود، صفحه ۲۷۵،۲۷۴) بَابِ ٤ ٤ : رَمْيُ الْمُحْصَنَاتِ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) اور جو لوگ پاکدامن عورتوں باربَعَةِ شُهَدَاء فَاجْلِدُوهُمْ ثَنِینَ کو متہم کرتے ہیں پھر اگر وہ چار گواہ نہ لائیں تو اُن کو جَلْدَةً وَلَا تَقْبلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَ اَسّی کوڑے لگاؤ اور اُن کی شہادت کبھی بھی قبول نہ أوليكَ هُمُ الْفَسَقُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں۔مگر وہ لوگ جنہوں نے مِنْ بَعْدِ ذلِكَ وَ اَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ اِس کے بعد توبہ کی اور اچھے کام کیے تو یقینا اللہ