صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 631 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 631

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۳۱ ۸۶ - كتاب الحدود دیا جائے گا اور اگر اس نے ایذا دے دے کر مارا ہے تو اسے بھی ایذا دے دے کر مارا جائے گا۔ جیسے احادیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگ بعض صحابہ کو پکڑ کر لے مارا گئے اور لوہے کی گرم گرم سلاخیں انہوں نے ان کی آنکھوں میں پھیریں اور پھر قتل کر دیا۔ جب وہ پکڑے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں بھی اسی طرح مارو۔ پہلے لوہے کی سلاخیں گرم کر کے ان کی آنکھوں میں ڈالو اور پھر قتل کر دو۔“ (فرمودات مصلح موعود صفحہ ۲۹۱، ۲۹۲) بَاب ۱۷ : لَمْ يُسْقَ الْمُرْتَدُّونَ الْمُحَارِبُونَ حَتَّى مَاتُوا لڑنے والے مرتدوں کو پانی نہیں پلایا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے ٦٨٠٤ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۸۰۴: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ وُهَيْبٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ اُنہوں نے وہیب (بن خالد) سے، وہیب نے عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَهْطُ ایوب سے، ایوب نے ابو قلابہ سے ، ابو قلابہ نے مِنْ عُكْلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں وَسَلَّمَ كَانُوا فِي الصُّفَّةِ فَاجْتَوَوْا نے کہا: عکل کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمَدِينَةَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ أَبْغِنَا کے پاس آئے وہ صفہ میں ٹھہرے اور اُنہوں نے رِسْلًا فَقَالَ مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلَّا أَنْ مدینہ کی آب و ہوا کو نا موافق پایا۔ انہوں نے کہا: تَلْحَقُوا بِإِبِلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله یا رسول اللہ ہمیں دودھ منگوادیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہارے لیے یہی مناسب پاتا ہوں کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهَا فَشَرِبُوا مِنْ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں میں چلے دودھ اور أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَحُوا وَسَمِنُوا جاؤ۔ چنانچہ وہ اونٹوں میں آئے اور اُنہوں نے وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الدَّوْدَ فَأَتَى اُن کے اور پیشاب ہے یہ یہاں تک کہ وہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّرِيحُ تندرست ہو گئے اور موٹے ہو گئے اور اُنہوں فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَمَا تَرَجَّلَ نے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ گئے۔ اس پر فریادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس