صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 622
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۲ ۸۶ - كتاب الحدود الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ بیان کیا کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے مجھے بتایا۔ اُنہوں قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ عَنْ نے کہا ابو قلابہ جرمی نے مجھ سے بیان کیا۔ ابو قلابہ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ کہتے تھے: عکل کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے۔ پھر انہوں فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا نے مدینہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا تو آپ نے مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُوا اُن سے فرمایا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں میں چلے جائیں اور ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ فَارْتَدُّوا فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ اُنہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ پھر فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ وہ مرتد ہو گئے اور چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹوں أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ کو ہانک کر لے گئے۔ آپ نے اُن کے پیچھے سوار لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا۔ بھیجے اور اُن کو پکڑ کر لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹو اڈالے اور اُن کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھر وائیں۔ پھر اُن کے زخموں کو (خون بند کرنے کے لیے ) نہیں داغا اور وہ اسی طرح مر گئے۔ أطرافه: ۲۳۳ ، ۱۵۰۱ ، ۳۰۱۸، ۱۹۲ ، ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٥٧٢٧، ٦٨٠٣، - ٦٨٠٤ ، ٦٨٠٥ ، ٦٨٩٩ تشريح الْمُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ وَالرّدة: کافروں اور مرتدوں میں سے جنگ کرنے والوں کے متعلق ( احکام شریعت)۔ زیر باب روایت میں بیان کردہ شکل قبیلہ کے متحارب گروہ کے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا شیر علی تحریر فرماتے ہیں: اب میں ناظرین کے آگے اس حدیث کے الفاظ رکھتا ہوں اور انہی سے انصاف چاہتا ہوں۔ وہ اس حدیث کے الفاظ کو پڑھیں اور بتائیں کہ یہاں جن لوگوں کا ذکر ہے کیا ان سے صرف ارتداد کا جرم سرزد ہوا تھا یا انہوں نے کچھ اور بھی کیا تھا ؟ وہ بار بار اس حدیث کو پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ ان کو کیوں سزا دی گئی؟