صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 601
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۰۱ ۸۶ - کتاب الحدود رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ ایک شخص بولا۔اے اللہ ! اس کو اپنی رحمت سے مَا يُؤْتَى بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله دور رکھنا کتنی ہی بار اسے پکڑ کر لایا گیا۔نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللهِ مَا علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو۔اللہ کی قسم عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔! میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔- ٦٧٨١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۷۸۱ علی بن عبد اللہ بن جعفر نے ہم سے بیان بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔(عبد اللہ ) حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بن ہاد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے محمد بن إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي ابراہیم سے، محمد بن ابراہیم نے ابو سلمہ (بن هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبد الرحمن) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرۃ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ فَأَمَرَ بِضَرْبِهِ فَمِنَّا مَنْ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ يَضْرِبُهُ بِيَدِهِ وَمِنَّا مَنْ يُضْرِبُهُ بِنَعْلِهِ وَسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا۔آپ نے اس کو وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ مارنے کا حکم دیا۔تو ہم میں سے وہ بھی تھا جو اس کو قَالَ رَجُلٌ مَا لَهُ أَحْزَاهُ اللهُ فَقَالَ اپنے ہاتھ سے مار رہا تھا اور ہم میں سے وہ بھی تھا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا جو اُس کو اپنے جوتے سے مار رہا تھا اور ہم میں سے کوئی ایسا بھی تھا جو اُس کو اپنے کپڑے سے مار رہا تھا۔جب وہ واپس لوٹا تو ایک شخص بولا: اس کو کیا ہو گیا۔اللہ اس کو رسوا کرے۔تو رسول اللہ صلی تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ۔طرفه: ٦٧٧٧۔اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو۔تشريح۔مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الْخَمر : شراب پینے والے پر لعنت کرنانا پسند یدہ امر ہے۔مَا جَاءَ فِي ضَرْبِ شَارِبِ الخَمرِ : شراب پینے والے کو مارنے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں۔شراب پینے والے کو مارنے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں باب نمبر ۲ تا ۵ میں شراب پینے والے کو سزا دینے اور مارنے