صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 595
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۹۵ ۸۶ - کتاب الحدود بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابو بکر بن أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عبد الرحمن بن حارث) سے، ابو بکر نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ عليه وسلم نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ مؤمن ہوتے ہوئے زنا نہیں کرتا اور جب کوئی شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن ہوتے ہوئے شراب حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نہیں پیتا اور جب کوئی چوری کرتا ہے تو وہ مومن نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ ہوتے ہوئے چوری نہیں کرتا اور وہ مومن ہوتے وَهُوَ مُؤْمِنٌ۔وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ہوئے کوئی ایسی لوٹ نہیں کرتا کہ جس کی وجہ سے سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ لوگ اس کی طرف اپنی آنکھیں اٹھائیں۔اور أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن شہاب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔اُنہوں وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا النُّهْبَةَ۔أطرافه: ٢٤٧٥ ، ٥٥٧٨ ٦٨١٠ - نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔اس کے الفاظ بھی یہی ہیں إِلَّا النُّهْبَةَ یعنی سوائے لوٹ کے۔الرِّنَا وَ شُربُ الْخَمْرِ : زنا ( نہ کرنا) اور شراب (نہ) پینا۔امام بخاری نے عنوانِ باب کے بعد حضرت ابنِ عباس کا قول درج کیا ہے کہ زنا کی وجہ سے نورِ ایمان نکل جاتا ہے۔یہ حضرت ابن عباس کاری قول نہیں بلکہ طبری نے میں یہ مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص زنا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل سے نورِ ایمان نکال دیتا ہے۔ے زیر باب حدیث کے الفاظ لا يزني الزاني حين يَزْنَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ( زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن ہوتے ہوئے زنا نہیں کرتا اور جب کوئی شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن ہوتے ہوئے شراب نہیں پیتا) میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان ہوتے ہوئے گناہ نہیں ہو سکتا۔گناہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب انسان نفسانیت سے مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے ایمان پر ایک پردہ آجاتا ہے۔قرآنِ کریم کی یہ آیت اس مضمون پر خوب روشنی ڈالتی ہے۔فرماتا ہے: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (المطففين: ۱۵) خبر دار حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں پر زنگ لگا دیا اُن کسبوں نے جو ل تهذيب الآثار ، من مسند ابن عباس، جزء ۲، صفحه ۶۲۱)