صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 594 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 594

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۹۴ ۸۶ - كتاب الحدود شفقت لیے ہوئے ہیں۔ اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے بہت سادہ اور عام فہم نکتہ یہ ہے کہ جس طرح جسم انسانی کا کوئی عضو خرابی کے اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اُسے کاٹا نہ جائے تو سارا جسم تباہ ہو جائے اس لیے پورے وجود کو بچانے کے لیے ایک عضو کی قربانی ظلم نہیں بلکہ باقی جسم پر رحم ہے۔ یہی امر ان سزاؤں اور تعزیرات وحدود میں مضمر ہے۔ تعزیرات و حدود کا نفاذ صرف حکومت کا اختیار ہے کسی فرد بشر ، جماعت یا تنظیم کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے۔ اس لیے ایسا قدم اٹھانے سے پہلے اپنے دائرہ کار کو دیکھنا ضروری ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عملی قدم اٹھانے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ شریعت کے احیاء کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک وہ جس کا تعلق حکومت - رمت سے ہے اور ایک وہ جس کا تعلق نظام سے ہے۔ جو اُمور حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے اسلام کا یہ حکم ہے کہ چور کا ہاتھ کا ٹویا اسلام کی تعلیم ہے کہ قاتل کو ضروری نہیں کہ قتل ہی کیا جائے بلکہ وارثوں کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو اسے قتل کی سزا دلائیں اور چاہیں تو معاف کر دیں مگر یہ اسلامی حکم چونکہ حکومت سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے ہم انہیں ابھی جاری نہیں کر سکتے ۔“ (انقلاب حقیقی، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۱۰۵) باب مَا يُحْذَرُ مِنَ الْحُدُودِ جن سزاؤں سے اجتناب کی وعید کی گئی ہے علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہ علیحدہ باب نہیں ہے بلکہ کتاب الحدود کے ساتھ متصل ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۲۶۵) بَاب ١ : الزِّنَا وَ شُرْبُ الْخَمْرِ زنا ( نہ کرنا) اور شراب (نہ) پینا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُنْزَعُ مِنْهُ نُورُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: زنا کی وجہ سے الْإِيمَانِ فِي الزِّنَا۔ آدمی سے نورِ ایمان چھین لیا جاتا ہے۔ ٦٧٧٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۶۷۷۲: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے