صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 589
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۸۹ ۸۵- کتاب الفرائض عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ الله نے کہا : ) خالد ( بن مہران حذاء) نے ہم سے بیان عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله کیا۔انہوں نے ابو عثمان (نہدی) سے، ابو عثمان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَن ادَّعَى إِلَى غَيْرِ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے کہ جو اپنے باپ کے عَلَيْهِ حَرَامٌ۔طرفه: ٤٣٢٦ - سوا کسی اور کی طرف منسوب ہوا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اُس کا باپ نہیں تو جنت اس پر حرام ہو گی۔٦٧٦٧ : فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ :۶۷۶۷: میں نے یہ حدیث حضرت ابو بکرہ سے وَأَنَا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ ذکر کی۔انہوں نے کہا: اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔رسول اللہ صلی علیم سے میرے دونوں کانوں نے اس کو سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا۔طرفه: ٤٣٢٧ - ٦٧٦٨ : حَدَّثَنَا أَصْبَعُ بْنُ الْفَرَجِ :۶۷۶۸: اصبغ بن فرج نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو عَنْ ( عبد الله ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔عمرو بن جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ عَنْ أَبِي حارث (مصری) نے مجھے خبر دی۔عمرو نے جعفر بن هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ربیعہ سے، جعفر نے عراک (بن مالک) سے، عراق نے حضرت ابوہریرہ سے ، حضرت ابوہریرہ قَالَ لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَمَنْ رَغِبَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ۔فرمایا: تم اپنے باپ دادوں سے نفرت نہ کرو۔جس نے اپنے باپ سے نفرت کر کے اعراض کیا تو یہ کفر ہو گا۔مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ: جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو۔انسان اپنے اصل باپ کے سوا کسی دوسرے آدمی کو اپنا باپ قرار دے لے، اس کے متعلق حدیث میں بہت بڑی وعید آئی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص اپنے والد کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے تو وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو