صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 587 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 587

۵۸۷ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵ - کتاب الفرائض تم انصاف نہ کرو۔تم انصاف کرو، وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کفار سے حسن سلوک اور عدل کا حکم دیتا ہے جو مسلمانوں سے دینی دشمنی نہیں رکھتے اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔حسن سلوک اور عدل میں سب سے بڑا انصاف تو یہی ہے کہ ان کا حق ان کو دیا جائے اور ورثہ سے محروم کرنا تو بہت بڑی حق تلفی اور دشمنی ہے۔اسلام تو ان کفار سے عدل سے بھی آگے احسان کی تعلیم دیتا ہے نہ کہ ان کے حقوق غصب کرنے کی۔پس اس روایت کو ان آیات کی روشنی میں پڑھا جائے تو یہ واضح ہو گا کہ یہاں جس مسلمان کو کافر رشتہ دار کے ورثہ سے محروم قرار دیا گیا اور جس کا فر کو مسلمان رشتہ دار کے ورثہ سے محروم قرار دیا گیا ہے وہ دونوں حربی ہیں۔بَاب :۲۷: مِيرَاثُ الْعَبْدِ النَّصْرَانِي وَالْمُكَاتَبِ النَّصْرَانِي وَإِثْمِ مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ نصرانی غلام اور نصرانی مکاتب کی میراث اور اس شخص کا گناہ جس نے اپنے بچے سے انکار کر دیا (کہ میرا نہیں ہے) تشریح، باب نمبر ۲۷ میں امام بخاری کوئی روایت نہیں لائے جو اُن کی شرائط کے مطابق ہو۔بلکہ اسے یا گذشتہ باب کا ضمیمہ ہی بنایا ہے کہ کسی غلام کا عیسائی ہونا کوئی جرم نہیں اور نہ عیسائی ہوناورثہ سے نہ محروم کرتا ہے بلکہ آقا اور غلام کے ورثہ کے متعلق جو اسلامی تعلیم ہے وہ نصرانی غلام پر بھی لاگو ہو گی اور مکاتب غلام اگر اپنی مکاتبت مکمل کر کے آزاد ہو چکا ہو تو اس کا سابقہ مالک سے تعلق نہیں رہا، اب وہ ایک آزاد حیثیت میں ہے اور ایک آزاد انسان کا ورثہ نسبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتا ہے، اُس کا بھی اسی طرح ہو گا۔اگر کوئی نسبی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا ورثہ بیت المال یا قومی خزانہ میں جائے گا۔جو اپنے بیٹے کو بیٹا ماننے سے انکار کرے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے جیسا کہ ابن ماجہ کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: انما رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَهُ وَقَدْ عَرَفَهُ، احْتَجَبَ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ سنن ابن ماجه كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَابُ مَنْ أَنْكَرَ وَلَدَهُ روایت نمبر ۲۷۴۳) جو شخص بھی اپنے بچے کو پہچاننے کے باوجود اس سے انکار کر دے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پر وہ کرلے گا اور اسے گواہوں کے روبر و ذلیل ورسوا کرے گا لیکن اگر بیٹے کی ابنیت طبی تحقیقات سے ثابت ہو جائے تو وہ وارث بن سکتا ہے۔باب ۲۸: مَنِ ادَّعَى أَخَا أَوِ ابْنَ أَخِ جس نے بھائی یا بھتیجے کے متعلق دعویٰ کیا (کہ یہ میرا ہے) ٦٧٦٥ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۶۷۶۵: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث