صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 581
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۸۱ ۸۵- کتاب الفرائض عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ کو آزاد کریں۔اس کے مالکوں نے کہا: ہم یہ اس لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شرط پر بیچ دیتے ہیں کہ اس کا حق وراثت ہمارا ہو گا فَقَالَ لَا يَمْنَعَنَّكَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ تو حضرت عائشہ نے نبی صلی الی نام سے اس کا ذکر کیا۔لِمَنْ أَعْتَقَ۔آپ نے فرمایا: ان کی یہ بات تمہیں نہ روکے کیونکہ حق وراثت اسی کا ہو تا ہے جس نے آزاد کیا۔أطرافه ،۲۱٥٦ ، ۲۱۶۹، ٢٥٦۲، ٦٧٥٢، ٦٧٥٩- ٦٧٥٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا :۶۷۵۸: محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، منصور جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا یزید) سے ، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا سے روایت کی۔آپ بیان کرتی تھیں: میں نے وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ بریرہ کو خریدا تو اس کے مالکوں نے اس کے حق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ وراثت کو مشروط رکھا۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ قَالَتْ فَأَعْتَقْتُهَا وسلم سے ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو قَالَتْ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کیونکہ حق وراثت اس کا ہوتا ہے جو چاندی دے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَقَالَتْ (آزاد کرنے کی قیمت۔) فرماتی تھیں: تو میں نے اس کو آزاد کیا۔فرماتی تھیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُ عِنْدَهُ علیہ وسلم نے اُس کو بلایا اور اسے اس کے خاوند کے فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا۔{قَالَ وَكَانَ زَوْجُهَا متعلق اختیار دیا۔وہ کہنے لگی: اگر وہ مجھے اتنا اتنامال خواتكم بھی دے میں اس کے پاس رات بھی نہ رہوں گی۔اس لئے اس نے اپنے تئیں اختیار کیا۔راوی نے کہا: اور اس کا خاوند آزاد تھا۔أطرافه: ٤٥٦ ۱۹٣، ۲۱۵۵، ۲۱۶۸، ٢٥۳۶، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ،٥، ٥٢٨٤۲۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،۲۵۷۸ ،۲٥٦٥ 5430، 6717، 6751، 6754، ٦٧٦٠۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۵۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔