صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 573 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 573

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۳ ۸۵- کتاب الفرائض وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُ عَبْدًا۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: میں نے اس کو دیکھا جبکہ وہ غلام تھا۔أطرافه ٤٥٦، ۱۹۳، ۲۱۵۵، ٢۱۶۸، ٢٥٣٦، ٢٥٦٠، ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،۲۰۷۸ ،٢٥٦٥ -٦، ٦٧٥٨،٦٧٥٤، ٦٧٦٠۷۱۷ ،٥٤٣٠ ،٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤ ،٥، ٥٢٨٤۲۷۹ ،۵۰۹۷ ٦٧٥٢: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۶۷۵۲: اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عمر سے، حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: قَالَ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔حق وراثت تو اُسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔أطرافه: ۲۱٥٦، ۲۱۶۹، ٢٥٦۲، ٦٧٥٧، ٦٧٥٩۔مريح : الْوَلَا لِمَنْ أَعْتَقَ وَمِيرَاتُ اللَّقِيط : حق وراثت اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے اور رستے میں پڑے ہوئے بچے کا حق وراثت۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: کتابت اس کو کہتے ہیں کہ غلام یا لونڈی اپنی قیمت ٹھہرا کر آزادی حاصل کرلے۔وہ قیمت یک مشت ادا کرے یا کما کر بعد میں باقساط دے۔ایسے شخص کو مکاتب کہتے ہیں۔حضرت بریرہ بھی مکاتب تھیں۔حضرت عائشہ نے ان کی قیمت دے کر ان کو آزاد کرالیا تھا۔(تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب العتق باب ۲۲ - ۲۵)۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب الصلواة، باب ذكر البيع والشراء، جلد اول صفحه ۵۵۶) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب مزید لکھتے ہیں: ارشادِ باری تعالیٰ بنیادی امر ہے جس سے غلاموں کی آزادی کا دروازہ کھولا گیا ہے کہ وہ بذریعہ مکاتبت اپنی آزادی کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور مالک کا انکار قابل قبول نہیں۔دوسرا امر جو اس غرض کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے وہ بالا قساط رقم کی ادائیگی ہے۔سہولت سے متعلق تیسر ا امر غلام کی مالی امداد ہے۔اگر مالک نقد لینے پر ہی مصر ہو تو نقد ادا کی جائے، جیسا کہ حضرت عائشہ نے بریرہ کی مالی مدد فرمائی اور یہ مالی امداد صیغۂ زکوۃ سے بھی دی جاسکتی ہے۔مکاتبت سے متعلق عدم وجوب کے بارے میں جمہور کی بڑی دلیل یہ ہے کہ اس امر پر فقہاء کا اجماع ہے کہ کوئی مالک اپنی ملکیت