صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 572 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 572

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۲ ۸۵- کتاب الفرائض کی ماں کو بھی تحفظ مل گیا۔اس نوعیت کا واقعہ بخاری میں متعدد بار آیا ہے۔اس کی شرح میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان کرتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت سودہ زمعہ کی بیٹی تھیں اور اس وجہ سے زمعہ کی لونڈی کا بیٹا ان کا بھائی سمجھا جاتا تھا مگر جب ثابت ہو گیا کہ وہ زمعہ کا بیٹا نہیں بلکہ عقبہ بن ابی وقاص کا ہے تو نا محرم ہونے کی وجہ سے آپ نے حضرت سودہ کو اس سے پردہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔زمعہ مسلمان نہیں تھے اور ان کی لونڈی آیت الا مَا مَلَكَٹ کے تحت ملک یمین نہیں تھی۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب العتق، باب أمد الولد، جلد ۴ صفحه ۵۶۶) بَاب ۱۹ : الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَمِيرَاتُ اللَّقِيطِ حق وراثت اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے اور رستے میں پڑے ہوئے بچے کا حق وراثت وَقَالَ عُمَرُ اللَّقِيطُ حُرّ۔اور حضرت عمرؓ نے فرمایا: جو راستے میں پڑا ہوا بچہ ملے وہ آزاد ہوتا ہے۔٦٧٥١: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۷۷۵۱ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حکم (بن عتیبہ) سے، عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ حکم نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود (بن اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ یزید سے، اسود نے حضرت عائشہ سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ کی۔آپ بیان فرماتی تھیں: میں نے بریرہ کو خریدا أَعْتَقَ وَأُهْدِيَ لَهَا شَاةٌ فَقَالَ هُوَ لَهَا تونی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خرید لو کیونکہ حق وراثت اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے اور بریرہ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ۔کو ایک بکری دی گئی تو آپ نے فرمایا: یہ گوشت اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ۔قَالَ الْحَكَمُ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا وَقَوْلُ حکم نے کہا: اور اس کا خاوند آزاد تھا اور حکم کا یہ قول الْحَكَمِ مُرْسَلٌ۔مرسل ہے۔