صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 563
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۶۳ ۸۵- كتاب الفرائض بَاب ۱۲ : مِيرَاثُ الْأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةٌ خاندانی تعلق کی وجہ سے بہنوں کا حق وراثت بیٹیوں کے ساتھ ٦٧٤١ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ۶۷۴۱ : بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ جعفر نے ہمیں بتایا۔ ا بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ نے سلیمان (عمش) سے، سلیمان نے ابراہیم (شخصی) قَالَ قَضَى فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَلَى ہے، ابراہیم نے اسود (بن یزید ) سے روایت کی۔ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ النِّصْفُ لِلْابْنَةِ وَالنِّصْفُ لِلْأُخْتِ ثُمَّ میں حضرت معاذ بن جبل نے ہمارے درمیان قَالَ سُلَيْمَانُ قَضَى فِينَا وَلَمْ يَذْكُرْ ترکے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ آدھا بیٹی کو اور آدھا بہن کو دیا جائے۔ پھر سلیمان نے کہا کہ حضرت عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرفه: ٦٧٣٤ - معاذ نے ہمارے ترکہ کے متعلق یہ فیصلہ کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر نہیں کیا۔ ٦٧٤٢ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ۶۷۴۲: عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عبد الرحمٰن (بن مہدی) نے ہمیں بتایا۔ سفیان عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ قَالَ قَالَ (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان نے ابو قیس عَبْدُ اللَّهِ لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ النَّبِيِّ (عبد الرحمن بن ثروان) سے، ابو قیس نے ہریل صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ (بن شرحبیل) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْابْنَةِ حضرت عبداللہ بن مسعود) نے کہا: میں اس ترکہ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الْابْنِ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ۔ طرقة ٦٧٣٦ - ہی فیصلہ کروں گا۔ یا انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی کو آدھا ملے اور پوتی کو چھٹا حصہ اور جو بچ رہے تو وہ بہن کو دیا جائے۔