صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 564 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 564

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۶۴ ۸۵- کتاب الفرائض ريح : مِيرَاتُ الْأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً: خاندانی تعلق کی وجہ سے بہنوں کا حق وراثت بیٹیوں کے ساتھ۔قرآنِ کریم بہنوں کے حق وراثت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: اِن امروا هلك لَيْسَ لَهُ وَلَد وَ لَةَ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ (النساء: ۱۷۷) اگر کوئی ایسا شخص مر جائے کہ اس کے اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو جو کچھ اس نے چھوڑا ہو اُس کا نصف اس (بہن) کا ہو گا۔اس آیت میں فرمایا: لَيْسَ لَه ولد یعنی اولاد نہ ہو تو بہن کو نصف ملے گا۔اس آیت سے اشارۃ النص کے طور پر یہ مراد لیا جا سکتا ہے کہ بہن کے ساتھ اگر متوفی کی ایک بیٹی ہو تو نصف بیٹی کو ملے گا جیسا کہ فرمایا: اِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ (النساء : ۱۲) اور اگر ایک (ہی عورت) ہو تو اس کے لیے (ترکہ کا) آدھا ہے۔اس کے ساتھ دو امکان ہو سکتے ہیں۔(۱) فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وکٹ سے مراد ہے بیٹا نہ ہو۔جیسا کہ امام بخاری نے النساء آیت ۷۷ امیں کلالہ کی تعریف یہ کی ہے: الكلالةُ : مَنْ لَمْ يرفهُ أَبْ أَوِ ابْنُ (كتاب التفسير ، سورۃ النساء، باب ۲۷) یعنی جس کا نہ باپ وارث ہو، نہ بیٹا۔کیونکہ اگر بیٹا ہو تو وہ تمام تر کہ کا وارث ہو گا پھر بہن کو کچھ نہیں ملے گا۔(۲) اگر ساتھ بیٹی ہو تو نصف بیٹی کو اور نصف بہن کو ملے گا جیسا کہ زیر باب روایت ۱۷۴۱ میں حضرت معاذ بن جبل کے فیصلہ کا ذکر ہے۔باب ۱۳: مِيرَاثُ الْأَخَوَاتِ وَالْإِخْوَةِ بہن بھائیوں کا حق وراثت ٦٧٤٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ۶۷۴۳: عبد اللہ بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے مُّحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ ہمیں خبر دی۔شعبہ نے محمد بن منکدر سے روایت جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَرِيضٌ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ میرے پاس آئے اور میں بیمار تھا۔آپ نے وضو نَضَحَ عَلَيَّ مِنْ وَضُونِهِ فَأَفَقْتُ کا پانی منگایا۔آپ نے وضو کیا۔پھر آپ نے اپنے فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِي أَخَوَاتٌ وضو کا پانی مجھ پر چھڑ کا اور میں ہوش میں آگیا۔میں نے کہا: یارسول اللہ ! میری بہنیں ہی ہیں۔تو فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ۔وراثت کے حصوں کی آیت نازل ہوئی۔أطرافه: ١٩٤، ٤٥٧٧، ٥٦٥١، ٥٦٦٤، ٥٦٧٦، ۶۷۲۳، ۷۳۰۹-