صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 560
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۶۰ ۸۵- کتاب الفرائض رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ وہ شخص جس کے كُنْتُ مُتَّخِذَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر لَاتَّخَذْتُهُ وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ میں اِس امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو میں اُن - أَوْ قَالَ - خَيْرٌ فَإِنَّهُ أَنْزَلَهُ أَبَا - كوبنا تا لیکن اسلام کی دوستی سب سے افضل ہے یا کو فرمایا: بہتر ہے۔انہوں نے تو دادا کو بمنزلہ باپ قرار۔أَوْ قَالَ - قَضَاهُ أَبًا۔دیا ہے یا کہا: یا فیصلہ کیا ہے کہ دادا باپ کی جگہ ہے۔أطرافه: ٤٦٧، ٣٦٥٦، ٣٦٥٧۔مع۔مِيرَاتُ الْجَلِ مَعَ الْأَبِ وَالْإِخْوَةِ: باپ اور بھائیوں کے ساتھ دادے کا حق وراثت۔مکرم و محترم ملک سیف الرحمن صاحب سابق مفتی سلسلہ احمدیہ لکھتے ہیں کہ ” فرانسیسی قانون میں دادے بھائیوں کی موجودگی میں محروم ہوتے ہیں اسی طرح بہنوں کی موجودگی میں دادیاں محروم ہوتی ہیں لیکن اسلامی شرعیت کی رو سے یہ محروم نہیں ہیں ، بعض علماء کے نزدیک دادا کو حصہ ملے گا اور بھائی محروم ہوں گے اور بعض کے نزدیک بھائی اور دادا دونوں وراثت میں شریک ہوں گے۔حضرت ابو بکر حضرت ابن عباس اور امام ابو حنیفہ پہلی رائے کے حق میں ہیں جبکہ حضرت علیؓ، زید بن ثابت اور امام شافعی دوسری رائے کو درست سمجھتے ہیں۔اول الذکر گروہ دادے کو باپ کے قائمقام مانتے ہیں۔حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ زید بن ثابت کچھ تو خدا کا خوف کریں کہ وہ پوتے کو تو بمنزلہ بیٹے کے مانتے ہیں، بمنزلہ باپ کیوں تسلیم نہیں کرتے۔موخر الذکر اصحاب کہتے ہیں کہ بھائی دادے سے زیادہ قریب ہے کیونکہ دادا باپ کا باپ ہوتا ہے اور بھائی باپ کا بیٹا اور بیٹا باپ سے زیادہ قریبی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھتیجا چے سے مقدم ہے لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ باپ اور دادا برابر ہیں۔جب بیٹے کی موجودگی میں وہ محروم نہیں ہو تا تو بھائیوں کی موجودگی میں اس کا حصہ کیسے کم ہو گا۔اصل زیادہ حق رکھتا ہے اور بھائی تو نہ اصل ہے اور نہ فرع بلکہ وہ ایک اصل میں شریک ہے نیز دادا سبب ہے اور سبب لاحق سے مقدم ہوتا ہے۔غرض یہ قانون انصاف سے بالکل بعید ہے کہ بھائیوں کی وجہ سے دادا محروم ہو جائے۔“ (روزنامه الفضل ۱۰ جنوری ۱۹۶۱ صفحه ۵)