صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 558
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵۸ ۸۵ - كتاب الفرائض الابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الظُّلُقَيْنِ وَمَا بَقِيَ اگر میں ایسا فتویٰ دوں تو یقیناً میں گمراہ ہو جاؤں اور فَلِلْأُخْتِ فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرْنَاهُ اُن لوگوں سے کبھی نہ ہوں جو راہ راست پر چلے۔ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي میں تو اس کے متعلق وہی حکم دوں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔ بیٹی کو آدھا اور پوتی کو چھٹا دیا مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ۔ جائے تا کہ دو تہائیاں پوری ہو جائیں اور باقی بہن کو دیا جائے۔ ہم یہ سن کر حضرت ابو موسیٰ اشعری ) طرفه: ٦٧٤٢ - کے پاس آئے۔ ہم نے ان کو حضرت ابن مسعودؓ کا قول بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے مسئلہ نہ پوچھا کرو جب تک کہ تم میں یہ علامہ موجود ہے۔ تشریح : مِيرَاثُ ابْنَةُ الابْنِ مَعَ ابْنَة : بیٹی کے ساتھ ہوتی کا حق وراثت۔ زیر باب روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے اس فیصلہ کی بنیا د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ۶۷۴۲ میں ذکر ہے: الابْنَةِ النِّصْفُ وَلا بَنَةِ الابْنِ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ بیٹی کو آدھا ملے اور پوتی کو چھٹا حصہ اور جو بچ رہے تو وہ بہن کو دیا جائے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ جو فرمایا کہ دو تہائیاں پوری کی جائیں۔ اس سے اُن کا اشارہ قرآن کریم کی آیت يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۚ فَإِنْ كُن نِسَاءَ فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ( النساء:۱۲) اللہ تمہاری اولاد کے متعلق تمہیں حکم دیتا ہے (کہ ایک مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے اور اگر (اولاد) عورتیں (ہی عورتیں) ہوں جو دو سے اوپر ہوں تو ان کے لئے (بھی) جو کچھ اس (مرنے والے) نے چھوڑا ہو (اس کا) دو تہائی مقر ر ہے اور اگر ایک ہی عورت) ہو تو اس کے لئے (ترکہ کا) آدھا ہے۔ دو یا دو سے زائد بیٹیوں کی صورت میں ان کا حق دو تہائی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ نے بیٹی اور پوتی کو ایک گروپ (Category) قرار دیا ہے اور یوں دو تہائی بیٹی اور پوتی کو دینے کے بعد بقیہ ایک تہائی بہن کو دی ہے۔ اس روایت سے بھی فقہاء کا وضع کردہ اصول رو رد ہوتا ہے۔ باب ۹ : مِيرَاثُ الْجَدِّ مَعَ الْأَبِ وَالْإِخْوَةِ باپ اور بھائیوں کے ساتھ دادے کا حق وراثت وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اور حضرت ابو بکر اور حضرت ابن عباس اور حضرت الْجَدُّ أَبْ وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُبَنِي آدَمَ ابن زبیر نے کہا: دادا بھی باپ ہوتا ہے اور حضرت