صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 553
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵۳ ۸۵ - كتاب الفرائض إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا اولاد کو غنی چھوڑ جاؤ تو یہ بہتر ہے اس سے کہ ان کو إِلَى فِي امْرَأَتِكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ محتاج چھوڑ جاؤ کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے أخَلَّفُ عَنْ هِجْرَنِي فَقَالَ لَنْ تُخَلَّفَ پھریں اور جو خرچ بھی تم کرو گے تو ضرور تمہیں بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ الله بدلہ دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اُٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ میں نے کہا: إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ یا رسول اللہ ! کیا اپنی ہجرت کے باوجود مجھے پیچھے أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ چھوڑ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: تم میرے بعد أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ وَلَكِنِ الْبَائِسُ پیچھے نہیں رہنے دیئے جاؤ گے۔ (اگر تمہیں پیچھے بھی سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْتِي لَهُ رَسُولُ اللهِ چھوڑ دیا جائے ) تو جو کام بھی تم ایسا کروگے جس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَّاتَ بِمَكَّةَ سے تم اللہ کی رضا مندی چاہ رہے ہوگے تو ضرور قَالَ سُفْيَانُ وَسَعْدُ بْنُ حَوْلَةَ رَجُلٌ مِّنْ تم بلندی اور درجہ میں بڑھتے چلے جاؤ گے۔ شاید بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيِّ۔ تمہیں میرے بعد رہنے دیا جائے تاکہ کچھ لوگ تم سے نفع اٹھائیں اور کچھ اور لوگوں کو تمہارے ذریعہ سے نقصان پہنچایا جائے مگر سعد بن خولہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ترس کھایا کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گیا۔ سفیان بن عیینہ ) کہتے تھے کہ حضرت سعد بن خولہ بنو عامر بن لوئی میں سے ایک شخص تھے۔ أطرافه: ٥٦، ١٢٩٥، ٢٧٤٢، ۲۷٤٤، ۳۹۳۶، 4409، 5354، 5659، 5668، 1373۔ ٦٧٣٤ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ۶۷۳۴: محمود بن غیلان نے ہم سے بیان کیا کہ ابو نضر حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ نے ہمیں بتایا۔ ابو معاویہ شیبان نے ہم سے بیان شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ کیا۔ ابو معاویہ نے اشعث سے ، اشعث نے اسود يَزِيدَ قَالَ أَتَانَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ بن یزید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت مُعَلِّمًا وَأَمِيرًا فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ تُوُفِّيَ معاذ بن جبل یمن میں ہمارے پاس معلم اور امیر ہو وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ فَأَعْطَى الِابْنَةَ کر آئے تو ہم نے اُن سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا