صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 552
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵۲ ۸۵ - كتاب الفرائض والے کی بیوی یا مرنے والی کا میاں کس طرح محروم ہو سکتے ہیں۔ یہ عجیب ناخلف اولاد ہے جو اپنے والدین کو ہی محروم کر رہی ہے۔ یہی حال بیٹیوں کی اولاد کا ہے۔ وہ بالعموم دوسرے قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرا قبیلہ تو جائیداد لے جائے لیکن میت کا اپنا خاندان یا قبیلہ محروم رہ جائے، یہ طبعی انصاف کے خلاف ہے۔ پس بیٹیوں کی اولاد کو اسلامی شریعت نے ذوی الارحام میں شامل کیا ہے اور ان کا درجہ جدی وارثوں کے بعد رکھا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جدی وارثوں کے ہوتے ہوئے بعض اوقات ماں جائے بھائی وارث ہوتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ مرنے والے کی نہ اصل ہو اور نہ نسل یعنی وہ کلالہ ہو۔ پس ایسی صورت میں ماں جائے بھائیوں کو ترکہ میں سے قلیل سا حصہ دے دینا جدی وارثوں پر کسی قسم کی زیادتی کے مترادف نہیں۔“ (روزنامہ الفضل مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۶۱ء، صفحه ۵) بَاب ٦ : مِيرَاثُ الْبَنَاتِ بیٹیوں کا حق وراثت ٦٧٣٣ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۶۷۳۳ : حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان ( بن سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ زہری نے ہم۔ ں نے ہم سے بیان کیا، عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ عَنْ أَبِيهِ کہا: عامر بن سعد بن ابی وقاص نے مجھے خبر دی۔ سے روایت کی کہ قَالَ مَرِضْتُ بِمَكَّةَ مَرَضًا فَأَشْفَيْتُ مِنْهُ عامر نے اپنے باپ سے کہ انہوں نے عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى الله کہا: میں مکہ میں ایسا بیمار ہوا کہ اس بیماری سے مرنے کے قریب ہو گیا اور نبی صلی اللہ تم میری عیادت کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لئے میرے پاس آئے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي میرے پاس بہت جائیداد ہے اور میری بیٹی کے سوا أَفَأَتَصَدَّقُ بِخُلُقَيْ مَالِي قَالَ لَا قَالَ اور میرا کوئی وارث نہیں ہے، تو کیا میں اپنی جائیداد قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلث کی دو تہائی صدقہ میں دے دوں ؟ دے دوں؟ آپ نے فرمایا: قَالَ الثُلُثُ كَبِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَرَكْتَ نہیں کہتے تھے، میں نے کہا: تو کیا پھر آدھا؟ آپ وَلَدَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً فرمایا: ایک تہائی بھی بڑی ہے۔ دیکھو! اگر تم اپنی