صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 550
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵۰ ۸۵ - كتاب الفرائض بابه : مِيرَاثُ الْوَلَدِ مِنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ اولاد کا ان کے ماں باپ کی طرف سے وراثت کا حق وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِذَا تَرَكَ رَجُلٌ أَوِ اور حضرت زید بن ثابت نے کہا: اگر کوئی مرد یا امْرَأَةٌ بِنْتَا فَلَهَا النِّصْفُ وَإِنْ كَانَتَا عورت بیٹی چھوڑ جائے تو اس کو آدھا ملے گا اور اثْنَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فَلَهُنَّ الظُّلُثَانِ وَإِنْ اگر دو بیٹیاں یا ان سے زیادہ ہوں تو انہیں دو تہائی ملے گا اور اگر ان بیٹیوں کے ساتھ کوئی مرد بھی ہو كَانَ مَعَهُنَّ ذَكَرْ بُدِئَ بِمَنْ شَرِكَهُمْ تو پہلے اس کو دیا جائے گا جو اُن کے ساتھ شریک فَيُؤْتَى فَرِيضَتَهُ فَمَا بَقِيَ فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ ہے اور اُس کو وہ حصہ دیا جائے گا جو اس کا مقرر حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ۔ ہے، پھر جو بیچ رہے اس میں سے مرد کو دو عورتوں کے حصے کے برابر دیا جائے۔ ٦٧٣٢ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۷۳۲: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ابن طاؤس نے ہم سے بیان أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کیا۔ ابن طاؤس نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ کی۔ آپؐ نے فرمایا: حصہ داروں کو ان کا مقر مقررہ حصہ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ۔ أطرافه: ٦٧٣٥، ٦٧٣٧، ٦٧٤٦- دے دو۔ پھر جو بچ رہے تو وہ سب سے زیادہ قریبی مر درشتہ دار کو دیا جائے۔ تشريح : وَأُمِّهِ: مِيرَاتُ الْوَلَدِ مِنْ أَبِيهِ وَأُ : اولاد کاپنے ماں باپ کی طرف سے وراثت کا حق۔ اگر کسی شخص کے بال شخص کے ماں باپ وفات پا چکے ہوں اور اولادہ کے ہوں اور اولاد صرف بیٹیاں ہی ہوں تو انہیں دو تہائی ملے گا اور اگر ایک بیٹی ہو تو اسے نصف ملے گا اور اگر ایک بیٹا یا ایک سے زائد بیٹے ہوں تو وہ گل جائیداد کے وارث ہوں گے اور اگر بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں تو لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء : ۱۲) (ایک) مرد کا (حصہ ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے، کے مطابق ملے گا۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بیٹی کو نصف دینے کے بعد باقی نصف اور دویا دو سے زیادہ بیٹیوں کو دو تہائی دینے کے بعد بقیہ ایک تہائی ترکہ کس کو ملے گا۔ اس کے لیے بعض فقہاء نے ایک خود ساخته اصول وضع کیا ہے۔ یہ رڈ کا اصول کہلاتا ہے۔ اس کے مطابق بقیہ نصف یا بقیہ ایک تہائی رد کے اس اصول کے