صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 549
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۴۹ ۸۵- کتاب الفرائض ہیں وہ یہ ہیں کہ حضرت فاطمہ حضرت ابو بکڑ کی بات سمجھ گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل پر راضی ہو گئیں اور اس مسئلہ پر عمر بھر حضرت ابو بکر سے بات نہیں کی۔اس موضوع کو مکمل کرنے سے پہلے یہ امر بھی ذہن نشین کرانا ضروری ہے کہ حضرت فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند ماہ بعد وفات پاگئیں اور روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضرت ابو بکر حضرت فاطمہ کی عیادت کے لیے گئے اور دیگر باتوں کے علاوہ حضرت فاطمہ سے رضا جوئی کی بھی بات کی جس پر حضرت فاطمہ نے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا۔پس فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمُهُ سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد حضرت فاطمہ نے حضرت ابو بکر سے اس موضوع پر بات نہیں کی کیونکہ وہ حضرت ابو بکر کی بات سمجھ گئی تھیں، کیونکہ وہ جان گئیں کہ یہ فیصلہ حضرت ابو بکڑ کا نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور یہ طرز عمل جو حضرت ابو بکر نے اختیار کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ہے۔وہ اس جواب سے مطمئن ہو گئیں۔بَاب ٤ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: جو کوئی جائیداد چھوڑ جائے تو وہ اس کے رشتہ داروں کی ہو گی ٦٧٣١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۶۷۳۱ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔یونس نے ہمیں خبر حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ دى یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوسلمہ نے مجھے بتایا۔ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ،حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی ا یکم سے روایت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ کی۔آپ نے فرمایا: میں مؤمنوں سے ان کی اپنی مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَّاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ جانوں سے بڑھ کر تعلق رکھتا ہوں۔اس لئے جو وَلَمْ يَتْرُكُ وَفَاءً فَعَلَيْنَا قَضَاؤُهُ وَمَنْ (مومن) مر جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو اور وہ اس کے ادا کرنے کے لئے کوئی مال نہ چھوڑے تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ۔تو ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس قرض کو چکائیں اور جو کوئی جائیداد چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کی ہوگی۔أطرافه ۲۲۹۸، ۲۳۹۸، ۲۳۹۹، ۱۷۸۱، ٥۳۷۱، ٦٧٤٥، ٦٧٦- ل (السنن الكبرى للبيهقى، كتاب قسم الفئى والغنيمة، باب بيان مصرف اربعة اخماس الفئي بعد رسول الله، جزء 4 صفحہ ۴۹۱، روایت نمبر ۱۲۷۳۵)