صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 540 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 540

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۴۰ ۸۵ - کتاب الفرائض صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا تو اس امر کو نہیں چھوڑوں گا جو میں نے رسول اللہ صَنَعْتُهُ۔قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ عَلى العلوم کو کرتے دیکھا۔میں وہی کروں گا جو آپ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ۔نے کیا۔(عروہ) کہتے تھے: اس پر حضرت فاطمہ نے حضرت ابو بکر کو چھوڑ دیا اور اپنے مرنے تک ان سے ( اس بارے میں) بات نہیں کی۔أطرافه ۳۰۹۳، ٣٧۱۲، ٤٠٣٦، ٤٢٤١۔٦٧٢٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ۶۷۲۷: اسماعیل بن ابان نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابن مبارک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيُّ یونس نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے ، عروہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ۔علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا۔جو أطرافه: ٤٠٣٤، ٦٧٣٠ - شِهَابٍ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔٦٧٢٨: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۶۷۲۸: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔لیث نے عقیل سے ، عقیل قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ نے ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے مالک بن اوس بن حدثان نے بتایا اور محمد بن جبیر بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي ذِكْراً مِنْ حَدِيثِهِ الْحَدَثَانِ – وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ بن مطعم نے بھی مجھ سے ان کی اس حدیث سے کچھ حصہ ذکر کیا تھا۔( یہ سن کر ) میں چل پڑا اور اُن ذَلِكَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ کے پاس پہنچا اور میں نے اُن سے پوچھا تو انہوں نے فَسَأَلْتُهُ - فَقَالَ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ کہا: میں چل پڑا کہ حضرت عمرؓ کے پاس جاؤں۔جب عَلَى عُمَرَ فَأَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ وہاں پہنچا تو اُن کا دربان پر فا اُن کے پاس آیا اور کہنے هَلْ لَّكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ لگا: کیا آپ حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ ؟ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمْ ثُمَّ اور حضرت زبیر اور حضرت سعد کو ملنا چاہتے ہیں ؟ قَالَ هَلْ لَّكَ فِي عَلِيّ وَعَبَّاسِ ؟ قَالَ انہوں نے کہا: ہاں، اور اس نے ان کو اجازت دی، نَعَمْ قَالَ عَبَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ پھر یر فا نے کہا: کیا آپ حضرت علیؓ اور حضرت