صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 537
صحیح البخاری جلد ۱۵ اور وہ ۵۳۷ ۸۵- کتاب الفرائض یہ ہے کہ اس وصیت یا اس قرضہ کے ذریعہ سے مرنے والے نے کسی کو نقصان پہنچانا نہ چاہا ہو۔ اس طرح پر کہ ایک ثلث سے زیادہ کی وصیت کر دی ہو یا ایک نہ چاہا ہو۔ سے زیادہ وصیت فرضی قرضہ ظاہر کیا ہو۔ یہ خدا کا حکم ہے وہ خدا جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں حلیم ہے اس لئے و الئے وہ با وجود علم کے نافرمان کو جلدی سزا نہیں د سزا دیتا۔ سزا نہیں دیتا یعنی وہ سزا دینے میں دھیما ہے۔ پس اگر کسی ظلم اور خیانت کے وقت کوئی شخص اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچے تو اُس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ خدا کو اس کی اس مجرمانہ حرکت کی خبر نہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئیے کہ باعث خدا کے حکم کے یہ تاخیر واقع ہوئی ہے اور آخر شریر آدمی کو وہ سزا دیتا ہے جس کے وہ لائق ہوتا ہے۔ ہاں مشو مغرور بر حکم خدا دیر گیر د سخت گیر د مر ثرا اب ان تمام آیات سے صاف ظاہر ہے کہ کیسے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدین کے حق کو تاکید کے ساتھ ظاہر فرمایا ہے اور ایسا ہی اولاد کے حقوق بلکہ تمام اقارب کے حقوق ذکر فرمائے ہیں اور مساکین اور یتیموں کو بھی فراموش نہیں کیا بلکہ ان حیوانات کا حق بھی انسانی مال میں ٹھہرایا ہے جو کسی انسان کے قبضہ میں ہوں۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳، صفحه ۲۱۲ تا ۲۱۴) بَاب ۲ : تَعْلِيمُ الْفَرَائِضِ فرائض کا سکھانا وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ تَعَلَّمُوا قَبْلَ اور حضرت عقبہ بن عامر نے کہا: سیکھو پیشتر اس الظَّانِّينَ يَعْنِي الَّذِينَ يَتَكَلَّمُونَ بِالظَّنِّ کے کہ اندازے لگانے والے ( پیدا) ہوں یعنی وہ لوگ جو خیالات کی بنا پر باتیں کرتے ہیں۔ ٦٧٢٤ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۷۲۴: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ابن طاؤس نے ہم سے بیان أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ کیا۔ ابن طاوس نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے